صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام حسین علیہ سلام


حضرت امام حسین علیہ السلام
قال اﷲ تعالیٰ و وصینا الانسان بوالدیہ احسانا o حملتہ امہ کرھا و وضعتہ کرھا o و حملہ و فصالہ ثلٰثون شھراً
(سورہ احقاف پ ۲۶ آیت ۱۵)
ترجمہ: اور ہم نے اس انسان خاص کو اپنے والدین کے حق میں احسان کرنے کا حکم دیا کہ اس کو ماں نے حمل میں اٹھایا تکلیف سے جنا تکلیف و غم سے اس حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے ۔
تفسیر عامہ اس آیت کا مفہوم عام جبکہ تفسیر خاصہ میں یہ فقط اور فقط حضرت امام حسین ؑ کی شان میں اتری ہے ۔تفسیر برہان اور تفسیر اسرار المصحف میں اس آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر ؑ سے مروی ہے کہ جب فاطمتہ زھرا ؑ کے حمل میں امام حسین ؑ تھے تو جبریل امین ؑ رسول خدا ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ عنقریب فاطمہ ؑ کے بطن مبارک سے ایک لڑکاپیدا ہوگا جس کو آپ کی امت آپ کے بعد شہید کرے گے پس یہ سن کر جناب فاطمہ ؑ کو حمل سے بھے رنج پہنچا اور وضع حمل کے وقت اس ولادت سے بھی ۔ پھر حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا کہ دنیا میں کوئی ماں ایسی نظر نہیں آئے گی جو بیٹے کو جن کر رنجیدہ ہوئی ہو ۔ جناب سیدہ ؑ کو رنج اس وجہ سے ہوا کہ ان کویہ علم ہوچکاتھا کہ ان کا یہ فرزند شہید کیا جائے گا اور اسی امام مظلوم ؑ کے بارے اور مصداق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ بروز ولادت جبرائیل ؑ پھر نازل ہوئے اور یہ عرض کی کہ یا رسول اﷲ ؐ پروردگار آپ پر سلام بھیجتا ہے اور آپ ؐ کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ امامت و ولایت و وصایت کو اسی فرزند کی اولاد میں مقرر فرمانے و الا ہے آنحضرت ؐ نے فرمایا میں راضی ہوں ۔ پھر جناب فاطمہ ؑ کو خوشخبری پہنچائی تو وہ بھی راضی ہو گئیں ۔ جناب امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت امام حسین ؑ نے واصلح لی فی ذریتی نہ فرمایا ہو تا یعنی لفظ فی سے مقیدنہ کردیا ہوتا تو ان حضرت کی کل ذریت امام ہی امام ہوتی پھر فرمایا جناب امام حسین ؑ نے نہ جناب سیدۃ النساء ؑ کا دودھ پیاہے نہ کسی اور عورت کا بلکہ وہ جناب رسول ؐ کی خدمت میں لائے جاتے تھے آنحضرت ؐ اپنا انگوٹھا ان کے منہ میں دے دیتے تھے جس میں سے جناب امام حسین ؑ اتنا کچھ چوس لیتے تھے کہ دوتین دن کو کافی ہو جا تاتھا پس حضرت امام حسین ؑ کا گوشت رسول خدا ؐ کے گوشت و خون سے پیدا ہوا اور چھ ماہ کی مدت حمل میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اور حضرت امام حسین ؑ کے علاوہ اور کوئی بچہ پیدا ہو کر زندہ نہیں رہا لیکن دو سری بعض روایات میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے بجائے حضرت یحی بن زکریا ؑ کا ذکر موجود ہے ۔ بمطابق دعائے زکریا ؑ فھب لی من لدنک ولیا ۔ اے اﷲ پس مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر اور دعائے محمد ؐ سے حضرت امام حسینؑ کو
ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریٰتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ۔
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہم کو ہماری ازواج کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عنایت کر اور ہم کو پرہیز گاروں کاپیشوا بنادے۔
اسلئے اﷲ تعالیٰ نے قیامت تک کی امامت کے منصب پر ان کی اولاد میں سے ایک فائز کیا ہے ۔
ولادت امام حسین ؑ
حضرت امام عسکری ؑ فرماتے ہیں کہ ۔ جدنا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سوئم ماہ شعبان بروز پنجشنبہ ۴ ھ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن ؑ کی ولادت کے دس ماہ تین دن بعد پیدا ہوئے ۔ جناب سلمان فارسی ؓ سے منقول ہے کہ حضرت رسول خدا ؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اے سلمان ؓ خداوند عالم نے ہمیں نور سے پیدا کیا اور اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے پانچ نام اپنے ناموں سے رکھے ہیں ۔ پس اﷲ محمود ہے اور میں محمد ؐ ہوں اﷲ اعلیٰ ہے اور میرا بھائی علی ؑ ہے اور اﷲ فاطر ہے میری بیٹی فاطمہ ؑ ہے اور خدا کی طرف سے احسان ہے اور یہ میرابیٹا حسن ؑ ہے اور خدا محسن ہے اور یہ میرا بیٹا حسین ؑ ہیں ۔ بعد اس کے خداوند جہاں نے حسین ؑ کے نور سے نو امام پیدا کئے دیکھے ابجد صغیر کے حساب سے حسن ؑ سے حسین ؑ دس زیادہ ہے اس لئے حسین ؑ ملا کردس امام ہیں ابھی سنا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے حسین ؑ کانام اپنے سے مشتاق کیا ہے اور تورات میں آپ کا نام شبیر ؑ ہے انجیل میں طیب ؑ ہے ۔ کنیت ابو عبداﷲ ہے ۔ خانہ بتول ؑ خاتون جنت میں دوسری خوشی ۔ امامت کا تیسرا چاند قیامت کی ضیا پاشیاں لے کر آیا دائرہ امامت نے مرکز پایا نمازوں کی بقا آئی ۔ آذانوں کی صدا آئی ۔ فاطمہ ؑ نے کہا شبیہہ رسالت ماب آیا ۔ علی ؑ نے کہا امامت کا آفتاب آیا رسول ؐ نے فرمایا میرا جواب آیا ۔ عبادت نے کہا میرا ثواب آیا خدا نے کہا انتخاب لاجواب آیا ۔ آسمان سے فرشتے تہنیت کواتر آئے ۔ اصحاب رسول جوق در جوق خدمت رسول ؐ میں تہنیت کو آرہے تھے ۔ ایک مرتبہ امیرالمومنین ؑ نے دروازہ مسجد پر سب کو روک لیا فرمایا ابھی تھوڑا توقف کریں حبیب خدا ؐ کے پاس ایک سوبیس ہزار فرشتے تہنیت کو آئے ہیںکچھ دیر بعد اصحاب خدمت رسول اﷲ ؐ پہنچے۔ بعد ادائے تہنیت عرض کیا یا رسول اﷲ ؐ آج ایک بات پر ہمیں بڑا تعجب ہے کہ علی ؑ نے ہمیں روکا اور کہا کہ خدمت رسول ؐ میں اس وقت ایک سوبیس ہزار فرشتے آئے ہیں ۔ ان فرشتوں کی تعداد ان کو کیسے معلوم ہوئی کیا آپ نے ان کو بتادیا ہے فرمایا علی ؑ کو بلاؤ رسول خدا ؐ نے فرمایا یا علی ؑ فرشتوں کی تعداد تمہیں کیسے معلوم ہوئی امیر المومنی حضرت علی ؑ نے کہا جب فرشتے آپ کو مبارک باد دے رہے تھے تو جو فرشتہ بعد سلام اپنی اپنی جداگانہ زبان میں آپ کو مبارک باد دے رہاتھا میں نے ہر ایک کی زبان کو سناتو ایک سوبیس ہزار مختلف زبانوں میں مبارک باد دی گئی تھی خدا کا رسول ؐ مسکر ایا اور فرمایا ۔ ذٰلک اﷲ علما و انا مدینۃ العلم و علی بابھا یہ فرما کر علی ؑ کے ساتھ خانہ فاطمہ ؑ کار خ کیا دیکھا بیٹی خوش ہے ۔ حسین ؑ آنکھیں بند کئے آئینہ کردگار کے منتظر ہیں حضور اکرم ؐ نے فرمایا میرے حسین ؑ کو مجھے دو رسول ؐ نے بچہ کی پیشانی چومی ہونٹوں کابوسہ لیا ۔ لب ہائے مبارک گلے تک پہنچے اور آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی فاطمہ ؑ نے دیکھا بار بار رو رہے ہیں زہرا ؑ بھی زارو قطار رونے لگیں اور عرض کی بابا کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا بیٹی یہ آپ کو بتا نے کی بات نہیں آپ ؐ کو فاطمہ ؑ کی جان کی قسم بتادیں و رنہ قیامت تک روتی رہوں گی۔ رسول ؐ نے فرمایا بیٹے تیرے اس بچے کو خدا نے جنت کا سردار بنایا ہے اپ؎نے دین کا مددگار بنایا ہے کائنات عالم مختار بنایا ہے مگر ابھی جبرائیل ؑ نے مجھے بتایا کہ خدا بعد تحفہ سلام و درود ارشاد فرماتا ہے کہ ہمارے رسول ؐ یہ بچہ میدان کربلا میں شہادت پائے گا زہرا ؑ نے رو کر کہا بابا آپ حسین ؑ کو شہید ہوتے دیکھیں گے ٗ فرمایا میں نہ ہوں گا فاطمہ ؑ تم بھی نہ ہوں گے اور علی ؑ اور حسن ؑ بھی نہ ہوں گے فاطمہ ؑ نے ایک چیخ ماری پھر فرمایا میرے اس بچے پر روئے گاکون ؟
حضرت محمد ؐ نے فرمایا بیٹی خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ میں ایک گروہ کو پیدا کروں گا جس کے عورت مرد بوڑھے اور بچے تیرے حسین ؑ پر قیامت تک خون کے آنسو بہاتے رہے گے فاطمہ ؑ کو یہ سن کرکچھ تسکین ہوئی الحاصل فاطمتہ زہرا ؑ کا چاند تمام خواتین صغیر و کبیر اور نوجوانان بنی ہاشم سمیت مدینہ رسول ؐ سے طلوع ہو کر کربلا کے خونی دریا میں دس محرم الحرام ۶۱ ھ جمعہ کے دن غروب ہوگیا پردہ نشین حیدر ظلمت شام میں اسیر ہوگئیں میدان بے آب و تاب میں دشمن سے دین رسول ؐ بقاء کے لئے تمام اعوان و انصار حسین ؑ نے قربانی دے دی اس کے بعد جوانان بنی ہاشم نے آب شہادت نوش فرمایا کربلا میں تمام انصار حسین ؑ نے آیت
ان اﷲ اشتری من المومنین انفسہم و اموالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اﷲ فیقتلون و یقتلون الخ
کی سند حاصل کرلیا ۔

شہادت امام حسین ؑ ابن امام علی ؑ مظلوم کربلا
والفجر ولیال عشر والشفع و الوتر و اللیل اذا یسر ھل فی ذالک قسم لذی حجرہ۔ – سورۂ الفجر
خداوند تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ قسم ہے فجر کی اور دس متبرک راتوں کی جفت اور طاق کی اور اس رات کی جو مشکل سے گزری اس میںصاحبان عقل کے لئے بڑی قسم ہے بعض تفسیروں میں اس سورہ کا نام سورۂ حسین ؑ آیا ہے ۔ تفسیر برہان جلد ۴ ص ۴۵۶ میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنی نماز فرائض اور نوافل میں سورہ فجر پڑھا کرو یہ حسین ؑ کا سورہ ہے جس نے اس کو پڑھا وہ روز قیامت جنت میں امام حسین ؑ کے ساتھ ہوگا ۔
رواہ احمد عن ابن عباس وہی العشر الاول من المحرم
تفسیر جلالین و قائم الحق ص ۲۶۷ ۔
اکثر تفسیروں میں ہے کہ اس سے مراد محرم کی دس ۱۰ راتیں اور صبح عاشورا ہے اور سال میں اسلامی نقطہ نظر سے تین عشرے منائے جاتے ہیں ۔ پہلا عشرہ رمضان شریف کا آخری عشرہ ہے ٗ جو نزولِ قرآن کا عشرہ لیلۃ القدر کا عشرہ شہادت امام علی علیہ السلام کا عشرہ ہے اور اعتکاف کا عشرہ ہے ٗ دوسرا عشرہ ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے یہ حضرت ابراہیم ( ع) و ہاجرہ (ع) کی یاس و پاس کا عشرہ ہے۔ تیسرا عشرہ محرم الحرام کا عشرہ ہے جو شہیدان کربلا کی غربت و کربت کا عشرہ ہے ۔ آل محمد ؐ کی وطن سے فرقت کا عشرہ ہے حسین ؑ کی شہادت کا عشرہ ہے ۔ قاسم ؑ و اکبر ؑکی بہادری و شجاعت کا عشرہ ہے۔ عباس ؑکی علمبرداری و بھائی سے فراقت کا عشرہ ہے ۔ زینب و کلثوم ؑ کی فریادی وبے یاری و بے ردائی کا عشرہ ہے۔ جب دسویں محرم کی صبح سے لڑائی شروع ہوئی ہزاروں تیر پہلے ہی حملے مخالف کی سمت سے چلے ۲۲ انصار و ہیں تڑپ کر شہید ہوگئے پھر بچپن کے ساتھی حبیب ابن مظاہرؓ عہد طفلی کے رفیق بھی چلے پس عزیزوں کی باری آئی۔ قاسم ؑ حضرت امام حسن ؑ کے فرائض انجام دے رہے تھے ام جان مہربانو ؓسے آخری رخصت لی۔ چچا کو سلام کیا لشکر یزید لعنہ کے مقابلہ میں کھڑے ہوکر تمام حجت ادا کی ایک وقت ایسا آیا کہ قاسم ؑ ابن حسن کی لاش پامال ہوچکی تھی حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس کو عبا میں اٹھایا ۔ حسین ؑ کے بھانجوں کی لاشیں آئیں تو حضرت زینب ؑ نے شکر کا سجدہ ادا کیا ۔ وفا کا پیکر حضرت عباس علمدار (ع) در یا پر علم گاڑ کر سوگئے فاطمہ ؑ کی نیابت زینب ؑکر رہی تھیں علی اکبر ؑ میدان میں گئے، حسین ؑنے صبر کی داد دی اور بیٹے کی لاش خود اٹھالائے چھ مہینے کا بچہ علی اصغر ؑ تیر کا نشانہ بنا مقتل میں اس کی قبر بنادی ٗ عصر کا وقت آتا چلا حسین ؑ ابن علی ؑ ذبخِ عظیم کی منزل پر آئے ۔ دعائے ابراہیم ؑ و محمد ؐ کی تکمیل کا وقت آیا ۔ رک کر لاشوں پر نظر کی اور آواز دے کر فرمایا
ھل من ناصر ینصرنا ھل من مغیث یغیثنا۔
میرانیس کہتے ہیں ۔
ناگاہ سوئے لاش پس جاپڑی نظر
فرمائے سر کو پیٹ کے سلطان بحروبر
سوتے ہوئے کیا دھرے ہوئے رخسار خاک پر
اکبرؑ اٹھو کہ گھوڑے سے گرتاہے پدر
بھولے پدر کو نیند میں قربان آپ کے
آؤ نماز عصر پڑھو ساتھ باپ کی اب پدر
خیمے میں کہرام مچا ہوا تھا ٗ سب کو امر صبر فرمایا ٗ عابد ؑ بیمار ؑ کے سرہانے آئے ان کو خدا حافظ کہا زینب ؑ کو دیکھ کربولے ہم نے قافلہ کو مدینے سے کربلا تک پہنچایا ہے ۔ اب تمہارا کام ہے کہ تم اس قافلے کو شام اور شام سے مدینے لے جاؤ اور جب مدینہ جانا تو میرے نانا ؐ کو میری طرف سے سلام کہنا کہ حسین ؑ نے اپنے وعدے کو پورا کیا ۔ سب کو الوداع و خدا حافظ کہا گھوڑے کے قریب آئے آواز دی کوئی ہے ہمارے سواری لانے والے این ما تکون عباس ؑ اس آواز سے قتل گاہ میں قاسم ؑ و اکبر ؑ اور عباس علمدار ؑکی لاشیں بے قرار ہوئیں ۔ کوئی نہ تھا گھوڑ اگر دن ڈالے قریب آئے زینب ؑ رکاب کو پکڑے آپ ؑ سوار ہوئے ناگاہ ایک بچی کی آواز آئی ۔ ٹھہرو بابا گھوڑا رک گیا ۔ حسین ؑ گھوڑ ے سے اتر پڑے بچی کو پیار کیا اور کہا عنی لعلی اتیک بالماء مجھے چھوڑ و میں شاید پانی لاسکوں بچی نے باپ کو خداحافظ کہا دم بخود دروازۂ خیمہ پر آکر چپ کھڑی ہوگئیں ۔ اس انتظار میں کہ باپ آئین گے خیمے میں آنسو چلے الوداع و الفراق کا شور بلند ہوا ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام لشکر کے قریب آئے اور ایک مرتبہ امام نے حجت کرنا چاہی ۔ اے مسلمانو ! دیکھو یہ میرے سرپر رسول ؐ کا عمامہ ہے یہ میرے ہاتھ میں علی علیہ السلام کی تلوار ہے اے مسلمانو ! اب اس دنیا میں میرے علاوہ رسول ؐ کا نواسہ علی ؑ کا فرزند فاطمہ ؑ کے لخت جگر کوئی اور نظر نہ آئے گا ۔ مگر حسین کی بات کا جواب تیروں سے دیا گیا ۔ مظلوم کربلا ؑ سبط رسول اور ایمان کا آخری تاجد او ایک ہزار نو سوا کاون ( ۱۹۵۱) زخم کھا کر زین فرس پر ڈگھگایا آواز آئی عباس ؑ اٹھو بھائی کا بازو پکڑو ٗ اکبر ؑ اٹھو باپ کوسہارا دو قاسم ؑ بڑھو چچا کو سنبھالا ۔ ؟ کے اتارو آخر فرمایا کوفہ والوتم یہی راستہ دو کہ بیکس بہن سہارا دے کربھائی کو اتار تو لے افسوس بھائی نہیں ٗ فرزند نہیں ٗ بھتیجا نہیں ٗ بہن کا راستہ فوجوں نے روکا ٗ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ نانا ؐ بسم اللہ کہہ کر بڑھے ہونگے ۔ باپ حسین ؑ کا بازو سنبھا لا ہوگا ٗ ماں گود پھیلا کے جنتی زمین پر بیٹھی ہوگی کہ آمیرے بچے اپنے کا نپتے ہوئے زانوں پر سر رکھ لوں ٗ سر کٹے تو میری گودمیں کٹے ٗ بہن گھبر ا کر خیمے سے نکلی ۔ میرا بیکس بھائی میرا پیاسا بھائی ارے میں عبا کا سایہ تو کراوں اگر مل جائے تو پانی پلا دوں اور فلک سے آیت اتری
یٰا ایتھا النفس المطمئنۃ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ۔
سورۂ الفجر آیت ۲۸، ۲۹
ترجمہ: اے نفس مطمئنہ میرے تقرب کی منزلوں میں واپس آ ۔ فتح وفیروزی کا تاج تیرے لئے میری جنت تیرے لئے ہے داخل ہوجائیں ۔
سکینہ ؑ اس انتظار میں تھی کہ باپ ؑ آئیں گے حسین ؑ گئے کربلا کے میدان میں شام ہوگئی حسین ؑ نہ آئے خیمے جلے بچوں نے طمانچے کھائے گھر لٹا حسین ؑ نہیں آئے اند ھیرا ہوگیا علی ؑ کی بڑی بیٹی زینب ؑ بچوں کو جمع کرنا شروع کیا جب باہر میدان میں سب ایک جگہ جمع ہوئے تو زینب ؑ نے دیکھا سکینہ ؑ نہیں ہیں ۔ ہر طرف آواز دیتی ہوئی چلیں سکینہ ؑدریا پر جا کرپکارا عباس ؑ ! کیا وہاں سکینہ ؑ سکینہ ؑ آئی ہے ؟ آواز آئی بہن آہستہ بولو سکینہ ؑ یہاں میرے سینے پر سو رہی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مظلوم کربلا نے توجہ قبلہ کی طرف فرمایا اور نماز عصر میں مشغول ہوا جب سر اطہر سجد ے میں رکھاتھا شمر ملعون بے رحم نے امام ؑ ابن امام ؑ کو نماز کے سجدہ میں شہید کردیا۔
)(روضتہ الشہداء ص ۳۳۳ فارسی قدیم )

ازواج و اولاد امام حسین علیہ السلام
بروایت معتبر از امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت علی ؑ بن الحسین ؑ و فاطمہ کبریٰ ؑ از بطن شہر بانو ؓ دختر یزد جرد شاہ عجم نو شروان سے پیدا ہوئے ۔ (۲) علی اکبر ؑ و فاطمہ صغریٰ ؑ از بطن ام لیلی ؑ دختر ابو مرہ بن عروہ ہے ۔ حضرت علی اکبر ؑ بتاریخ ۱۱ ماہ شعبان مدینہ میں تولد ہوا ۔ (۳) حضرت علی اصغر ؑ بن الحسین ؑ و سکینہ ( رقیہ ) ؑ رباب بانو ؑ دختر امر القیس کی بطن سے تولد ہوا ہے ۔ علی اصغر ؑ کا تاریخ ولادت ۹ ماہ رجب یا ۲۶ ماہ رجب ہے ۔
(۴) عبداللہ ؑ بن الحسین ؑ باپ کی حیات میں مدینہ میں انتقال ہوا ان کی والدہ ماجدہ قبیلہ قضاعہ سے ہیں ۔
شان حسین علیہ السلام سبط رسول ﷺ
میراحسینؑ باغ نبوت کا پھول ہے
حیدرؑ کی اس میں جان ہے خون بتولؑ ہے
آل نبیؐ کا پیار ہے ایمان کی زندگی
اس سے نہیں ہے پیار تو سب کچھ فضول ہے
خورشیاں سبھی نثار ہیں اس پر جہاں کی
جس کو غم حسینؑ میں رونا قبول ہے
ایسی عظیم ذات ہے مولا حسینؑ کی
جس کے لئے رسولؐ کے سجدوں میں طول ہے
دنیا میں اور کوں ہے شبیرؑکے بغیر؟
ایسا سوار جس کی سواری رسولؐہے
جس کے لئے یزید نے اتنے ستم کیے
وہ تاج توحسینؑ کے قدموںکی دھول ہے
سلسلہ ذھب کے متوسلین بروز عاشورا محرم زیارت امام مظلوم کی نماز دو رکعت کے ساتھ پڑھتے ہیں اسی طرح زیارت علی اکبر ؑ دو رکعت زیارت سائر الشہداء دو رکعت پڑھتے ہیں۔ دعوات صوفیہ امامیہ میر سید علی ہمدانی قدس اللہ سرہ