صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

روزہ


روزہ کا حکم

اللہ تعالی فرماتا ہے! ’’اے ایمان والو !تم سے پہلے لوگوں کی طرح تم پر چند دنوں کے روزے فرض کئے گئے ہیںتاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ پس تم میں سے جو بیمار ہویا سفر میں ہو تو بعد کے دنوں میں رکھ لو اور جو لوگ اسکی طاقت نہیں رکھتے وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے۔جس نے نیکی کا کام کیا تو یہ اس کیلئے اچھاہو گا اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کیلئے ہدایت ‘ہدایات کی واضح نشانی اور (حق و باطل میں) فرق کرنیوالاہے ۔ پس تم میں سے جو اس ماہ میں حاضر ہو وہ روزہ رکھے اور جو مریض ہو یا سفر میں ہوتو بعد کے دنوں میں رکھے۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل نہیں چاہتا تاکہ اس مدت کو پورا کر و اور تم ہدایت پانے پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اور شکر گزار بن جاؤ۔‘‘
اقسام روزہ
اللہ کو پسندیدہ روزے کی دو قسمیں ہیں ۔ واجب اور مستحب ۔ اور اللہ کو ناپسندیدہ روزے کی بھی دو قسمیں ہیں۔ حرام اور مکروہ۔ واجب روزے چھے ہیں ۱۔رمضان کے روزے ۲۔اس کی قضاء ۳۔نذر کا روزہ اور اس جیسے روزے ۴۔کفارات کا روزہ ۵۔اعتکاف کاروزہ ۶۔قربا نی کے بدلے کاروزہ ۔ حرام اور مکروہ کے علاوہ تمام دنوں کے روزے مستحب ہیں۔ حرام روزے چار ہیں ۱۔عیدین کا روزہ ۔۲۔ایام تشریق کا روزہ ۳۔ ماہ رمضان کی نیت سے شک کے دن کا روزہ۔ ۴۔کسی گنا ہ کیلئے نذر کا روزہ ۔ مکروہ روزے پانچ ہیں۔ ۱۔ سفر میں تکلیف کیساتھ نفلی روزہ ۲۔کھانے پر مدعوشخص کا نفلی روزہ۔۳۔میزبان کی اجازت کے بغیر مہمان کا نفلی روزہ ۔۴۔شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا روزہ ۔ ۵۔مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا روزہ ۔