شاہ سید محمد نور بخش کی نظر میں ’’امام حجت‘‘ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

شاہ سید محمد نور بخش کی نظر میں ’’امام حجت‘‘


جس کسی کو امام محمد مہدیؑ کی پہچان نہ ہو تو ان حضرات کے لیے شاہ سید محمد نوربخش علیہ الرحمۃ نے کتاب کشف الحقیقت میں رسول اﷲ سے ایک حدیث نقل کی ہے مطالعہ کریں۔ حدیث کچھ یوں ہے:
قال رسولؐ من مات و لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ۔
اگر کوئی شخص مرجائے اس حالت میں کہ اپنے زمانے کے پیشوا کو پہچانتا نہ ہو تو وہ بے شک جہالت کی موت مرا۔ اس حدیث کی تشریح میں شاہ سید علیہ الرحمۃ کشف الحقیقت میں یوں رقم طراز ہیں:
ہرکسش نہ شناخت او ناداں بود
شخص ناداں کمتر از حیوان بود
اگر کوئی شخص امام مہدیؑ کی پہچان نہ رکھتا ہو تو وہ نادان ہے اور نادان شخص حیوان سے بھی بدتر ہے۔
آنکہ شاہ آشناس نے نادان بود
گر حکیم و فاضل دوران بود
جس کسی کو امام مہدی کی معرفت نہ ہو تو وہ نادان ہے۔ اگرچہ وہ نادان شخص زمانے کا حکیم (فلاسفر) اور فاضل ہی کیوں نہ ہو۔
این دو عالم زیردستش چوں خمیر
زیر حکمش بندہ ایں بالا و زیر
یہ دونوں عالم امام کے ہاتھوں میں گندے ہوئے آٹے کی طرح ہیں۔ عرش اعلیٰ سے تحت سرا تک آپ کے حکم میں مثل غلام ہیں۔
عن رسول قال: من انکر القائم من ولدی فقد انکرنی
قال اللّٰہ تعالٰی و جعلناھم آئمہ یہدون بامرنا و اوحینا الیھم فعل الخیرات
ہم نے ان کو (بارہ اماموں کو ) لوگوں کے لیے پیشوا بنایا اور یہی ذوات ہمارے حکم کے ذریعے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں یعنی یہ لوگ صاحب الامر ہیں اور ہم نے ان پر تمام نیکیوں کو وحی کیا۔
شاہ سید نے کشف الحقیقت میں ج ۵، ص ۶ پر نثر کی صورت میں اس دور کے امام، امام مہدیؑ کے صاحب الامر ہونے کے ثبوت پیش کرتے ہوئے:
آں ساقی دور دوراں جز یکی بیش نیست
آں یکی حجت اﷲ مہدی ھادی است
اوست عالم را مایہ شادی است
امام مہدی دور حاضر کے ساقی ہیں۔ یعنی راہ ضلالت سے راہ ہدایت پر لانے والے اور ساقی ایک ہوتا ہے اور وہی ایک اﷲ کی طرف سے انسان پر حجت ہوتا ہے اور وہ امام مہدی ہیں۔ امام مہدی اس پوری کائنات کے لیے خوشحالی کا سبب ہیں۔ اسی وجہ سے شاہ سید نے کشف الحقیقت، ج ۳، ص ۸ پر یوں فرمایا ہے:
صاحب الامر است و ہر دور زمان
زو رسید فیض بر خلق جہاں
ترجمہ: اس دور میں آپ تمام احکام الٰہی کے حامل ہیں۔ یعنی آپ کے حکم سے اس دنیا میں تمام چیزوں کی حیات ہے۔
امام مہدی کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے اس لیے شاہ سید کشف الحقیقت، ج ۳، ص ۸ میں یوں فرماتے ہیں:
چوں و رقھا ایں دو عالم سربسر
اوست خود ام الکتاب معتبر
ترجمہ: یہ دو عالم بکھرے ہوئے اوراق کی طرح ہیں۔ امام مہدی خود ایک قابلِ اعتماد قرآن ہیں۔
نیست رطب و یابسی در عالمین
کانہ باشد اندر آن شاہ مبین
دنیا کے ہر خشک و تر کے بارے میں امام مہدی کو علم ہے۔
لوح محفوظ او وسر اﷲ اوست
مغنر ہر مغنر او جنر او جملہ پوست
امام مہدی لوح محفوظ ہیں اور اﷲ کا راز ہیں۔ امام مہدی تمام حقیقتوں کی حقیقت ہیں۔ امام مہدی کی ذات کو الگ کر دیا جائے تو تمام چیزیں صرف چھلکے کی مانند ہیں۔
آپؑ ام الکتاب ہیں۔ آپؑ وہ ہستی ہیں جس سے پوری کائنات کو فیض پہنچتا ہے۔ اس لیے شاہ سید نے بھی امام مہدی کے وجود کو طریقت کے لیے لازم قرار دیا ہے۔
آپ کشف الحقیقت، ج اول میں یوں فرماتے ہیں:
در طریقت خواہی از نور جلی
بنگری بنگر حسین باعلیؑ
اے سالک راہ طریقت اگر تجھے اﷲ تعالیٰ کا منور نور چاہیے تو علیؑ کے ساتھ حسین مظلوم کو بھی مقام دو۔
تقدیر لولا را جوئے نشاق
بین رخ معصوم ایں آخر زمان
اگر تو محمد یا علی کی دوستی کا مشتاق ہے تو پس امام مہدی کے چہرے کی زیارت کے مشتاق رہو۔
شاہ سید امام مہدی ؑسے شکایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فتنھا پرشد فتن عالم گرفت
در چنین غوغا تو پنہان ایں شگف
اے امام مہدی اے زمانے کے ہادی یہ عالم فتنہ و فساد سے پر ہوگیا ہے۔ فتنہ و فساد ظلم و بے دردی نے پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے ظلم و جور کے دور میں آپ کا پردۂ غیب میں رہنا تعجب کی بات ہے۔ شاہ سید مزید حسرت سے تمنا کر کے ج ۲، ص ۳۸ پر فرماتے ہیں:
از شریعت و طریقت نور دین
گشت غائب اے شہنشاہ مبین
ترجمہ: اے حقیقی بادشاہ شریعت و طریقت سے دین کا نور چلا گیا ہے اور آپ غیب کے پردے میں ہیں۔ مجھے تعجب ہے۔ اس ظلم و بے وفا و بے درد دنیا سے دین اسلام کا نور ختم ہوچکا۔
پردہ برگیر از رخ زیبائے خویش
کن حقائق راعیاں از دین و کیشں
اے مولا اپنے چہرۂ انور سے غیب کے پردے کو ہٹا کر دین اور عقیدے پر آئی ہوئی بدعتوں کو دور کر کے حقیقت کو روشن کریں کیونکہ آپ ہی حقائق کو بیان کرنے والے اور اس دنیا سے ظلمت اور گمراہی کو دور کرنے والے، دین الٰہی کو فروغ بخشنے والے اور دین حق کی اصلاح کرنے والے، امتوں کو بدعتوں سے نکال کر راہ مستقیم پر لانے والے امام مہدی ہی ہیں۔ اس مطلب کو شاہ سید علیہ الرحمۃ کشف الحقیقت، ج ۲، ص ۳۸ میں یوں فرماتے ہیں:
پس نیابد راہ وصل ذوالانام
نہ از ریاضت جست بل جست از امام
خدا تک پہنچنے کا راستہ، صراط المستقیم، صرف ریاضت کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا بلکہ امام مہدیؑ کو ماننے سے حاصل ہوتا ہے۔