القاب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور وجہ تسمیہ


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 القاب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور وجہ تسمیہ
تحریر:سید بشارت حسین تھگسوی
thagasvi1992@gmail.com
تمہید
إِنَّاأَعْطَيْنَاكَالْكَوْثَرَ ، فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ، إِنَّشَانِئَكَ هُوَالأبْتَرُ .

ترجمہ :بے شک ہم نے آپ کو کو ثر عطا فرمایا لہذا آپ اپنے رب کیلئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں ۔یقینا آپ کا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔

رسول اللہ  کے فرزند یکے بعد دیگرے جب انتقال کر گئے تو مکہ کے بڑے بڑے رئوسا جیسے ابوجہل ،عاص بن وائل ،ابو لہب ،عتبہ نے یہ کہنا شروع کیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ابتر (لا ولد)ہیں ۔جب وہ دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کا نام مٹ جائے گا ۔جس پر یہ سورہ مبارکہ نازل ہو ا ۔جس میں یہ نوید سنائی ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے ،آپ ابتر نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہی ابتر ہیں ۔

– قرآن مجید پارہ عم ترجمہ وحاشیہ شیخ محسن علی نجفی

”کوثر”فوعل کے وزن پر ہے یہ کثرت بیان کرنے کیلئے آتا ہے اور روایات میں کوثر کی تشریح خیر کثیر سے کی گئی ہے اس میں خیر کثیر کے مصداق کا تعین اگلی آیت إِنَّشَانِئَكَهُوَالأبْتَرُ سے ہو تا ہے ۔آپ کو کوثر عنایت ہوا چنانچہ آپ ابتر نہیں ہے بلکہ آپ کا دشمن ابتر ہے ۔یعنی کوثر سے مراد حضوراکرم ،سرور دوعالمکیلئے اولاد کثیر ہے جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے پھیلی ہے ۔

جناب حضرت زہرا (س)کی عظیم شخصیت کے متعلق ہماری معلومات کا دائرہ محض ان چند اطلاعات تک محدود ہے جو ہم دل وجان سے ان کی عظمت اور جلالت کے معترف ہیں اور ہم جو اپنے روح اور ایمان کی تمام گہرائیوں اور توانائیوں کے ساتھ ان سے عقیدت رکھتے ہیں ایسی لازوال عقیدت جس سے زیادہ عقیدت رکھنا کسی انسانی گروہ کیلئے ممکن نہیں ہے۔لیکن اس ہستی کے بارے میں جو ہماری عقیدتوں کا مرکز ہے ہماری معلومات افسوناک حد تک محدود ہے ۔لہذا ہم محبان زہرا (س)وآل زہرا میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ ان کی عظمت وعصمت اور زندگی کے تمام تر پہلوں پر روشنی ڈالنے اور دنیا کے تمام کونوں میں حیات جناب زہرا (س)کے ایک ایک نکتے کو اور ان کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا انتہائی ضروری ہے ۔

جناب زہرا (س)کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوں پر دنیا میں مختلف زبانوں میں کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ،تا ہم بندہ حقیر پر تقصیر اس مختصر مقالے میں جناب حضرت فاطمہ زہرا (س)کی تاریخ عالم میں مشہور اسمائے گرامی اور ان کی وجہ تسمیہ جو احادیث وروایات میں نقل ہوئی ہیں بیان کرنے کی کوشش کروں گا ۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لکھنے کیلئے علم وعمل کا بحر پیکراں کی ضرورت ہے ۔کہاں بندہ گنہگار ،کہاں جناب سید ہ(س)کی اسماء گرامی کے بارے میں تحقیق ۔لیکن اس عظیم ہستی کے بارے میں چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا سہارا لیکر بروز قیامت غلامان زہرا (س)کی زمرے میں اپنا نام اندراج کرنے کی کوشش کی ہے ۔لہذا اس موضوع پر گفتگو سے قبل موضوع کی اہمیت کے بارے میں چند جملے صفحہ قرطاس پر رقم کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ موضوع کی اہمیت اور افادیت زیادہ سے زیادہ عیاں ہو جائے ۔

اہمیت موضوع
کسی بھی شخصیت کے بارے میں جاننے کیلئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اس کی نام او ر حسب ونسب معلوم کریں کہ وہ انسان کیسا ہے باالفاظ دیگر نام ہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر شخص اور شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔لہذا جناب سید ہ (س)کی حیات طیبہ کا ہر گوشہ آپکی شخصیت اور عظمت کی گواہی دیتاہے لیکن آپ کی مشہور ومعروف اسمائے گرامی بھی اس بات کی شاہد ہے کہ وہ ایک نامور بلکہ نسان عالم میں سے ایک یکتا خاتون تھی۔

جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی مشہور اسماء گرامی
خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا (س)کی اسمائے گرامی تاریخ کے کتابوں میں مختلف انداز میں درج ہیں اور مورخین نے ان اسماء کی سند کیلئے احادیث مبارکہ کا بھی سہارا لیا ہے ۔ہم یہاں پر ان مشہور اسماء کا ذکر کریں گے جن پر اکثر مورخین کا اتفاق ہے ۔جب ان مختلف طریقوں سے نقل شدہ اسماء کو جمع کیا جائے تو آپ کی مشہورومعروف اسمائے گرامی درج ذیل بنتے ہیں ۔

١۔فاطمہ ٢۔زہرا ٣۔بتول٤۔سیدہ٥۔طاہرہ٦۔مبارکہ٧۔صدیقہ ٨۔زاکیہ ٩۔راضیہ١٠۔مرضیہ١١۔محدثہ

ان اسماء مبارکہ کی تفصیل اور وجہ تسمیہ بیان کرنے سے پہلے حضرت امام جعفر صادق بحق ناطق کا وہ مشہور حدیث مبارکہ جسے اکثر مورخین نے اپنے کتابوں میں درج کیا ہے نقل کروں گا ۔جس میں امام  نے جناب سیدہ (س)کی مشہور نو (٩)نام ارشاد فرمایا ہے ۔

عنالامامالصادقعلیه السلامقال :لفاطمةتعسةاسماءعندالله،فاطمهوالصدیقةوالمبارکةوالطاهرةوالزاکیةوالراضیةوالمرضیةوالمحدثةوالزهرا۔

لوفاطمہ عن مصائبھا ص291٢:الدمعة الساکبہ ص241٣:نخبة البیان ص79

ترجمہ :امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی نزدیک جناب فاطمہ (س)کی نو نام ہیں ۔فاطمہ ،صدیقہ ،مبارکہ ،طاہرہ ،زاکیہ ،راضیہ ،مرضیہ ،محدثہ اور زہرا ۔

١:۔فاطمہ
فاطمہ ”فطم”سے ہے جس کی معنی چھڑانا ہے ۔یا”چھڑا دینے والی ”کی ہے ۔فرہنگ عامرہ ص 347

فاطمہ کس چیز سے علیحدہ اور جدا ہے ۔اس کے بارے میں فریقین کی کتب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی ایک حدیث نقل ہو ئی ہے اور یہ حدیث مختلف طرق سے الفاظ کی ردو بدل کے ساتھ مروی ہے ۔

پہلاجو حضرت جابر ابن عبداللہ انصاریرضی اللہ عنہاور ابوہریرہ مروی ہے وہ یوں ہے۔

عن جابرقال قال رسولالله:انماسمیت فاطمه لانالله فطمهاومحبیهاعن النار
موسوعة الکبریٰ ج 18ص372٢:کنزالعمّال ج 12ص109٣:شرح فقہ اکبر ص 133

ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا :بے شک (جناب سید ہ (س)کو) فاطمہ نام رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جناب سید ہ (س)اور ان کی چاہنے والوں کو جہنم کی آگ سے چھٹکارا عطا فرمائے گا۔

جب کہ دوسرے بعض کتب میں ”ولدھا”یا ”ذریتھا”کا لفظ اضافہ ہے جیسا کہ کچھ کتب میں مولا علی علیہ السلام سے یہی حدیث یوں مروی ہے ۔

عن علی قال قال رسولالله:اتدرینلمسمیتفاطمه،قلت :یارسولالله لمسمیتفاطمة،قال :انالله عزوجلقدفطمهاوذریتهاعنالناریومالقیامة۔
سلو فاطمہ عن مصائبھا ص392٢:موسوعة سیرت اہل البیت ج9ص46٣:فضائل خمسہ من الصاح الستہ ص 155٤:ینابیع المودة ج2ص125٥:فاطمہ من المھد الیٰ الحدص50

ترجمہ :حضرت علیعلیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا :میں بیان کروں کہ فاطمہ نام کیوں رکھا گیا ہے ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کیوں رکھا ہے ،تو آپ نے فرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اولاد کو قیامت کے دن جہنم کی آگ سے بچا کے رکھے گا۔

ان روایات کے مطالے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جناب سیدہ (س )خود اور اپنے چاہنے والے اور اپنے اولاد کو جہنم کی آگ سے قیامت کے روز محفوظ رکھے گی۔

اس کے علاوہ جناب سید ہ (س) کیلئے فاطمہ نام رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے یذید ابن مالک نے حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام  سے ایک حدیث نقل کیا ہے جو کہ بعض سیرت نگاروں نے اپنے کتابوں میں درج کیا ہے ۔

عن یذیدابنمالکعنابیجعفرقال :لماولدتفاطمهاوحیاللهعزوجلفانطلقبهلسانمحمدفسماهافاطمةثمقالانیفطمتکبالعلموفطمتکعنالطمثثمقالابوجعفرواللهفطمهاالله تبارکوتعالیبالعلموعنالطمثبالمیثاق

الدمعة الساکبة فی احوال النبی والعترة الطاہرہ ص 242٢:سلو فاطمہ عن مصائبھا ص291

ترجمہ :یذید ابن مالک سے روایت ہے کہ ابوجعفر(حضرت امام محمد باقر علیہ السلام )نے فرمایا :جب جناب فاطمہ (س)کی ولادت ہو ئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپر وحی نازل کیا کہ ان کا نام فاطمہ رکھا جائے اور فرمایا :بے شک میں نے ان کو جہالت سے دور رکھا ہے اور خواتین میں پائی جانیوالی عیوب سے پاک وپاکیزہ قرار دیا ہے ۔پھر امام  نے فرمایا بے شک اللہ تعالی نے اپنے وعدے کی مطابق ان سے جہالت اور دیگر عیوب سے پاک کیا ہے ۔

٢:۔زہرا
زہرا کی لغوی معنی پھول کی کلی ،گل ناشگفتہ کے ہیں ۔فرھنگ جدید ص225

چونکہ جناب سیدہ (س)عزت وجمال وکمال سے موصوف تھیں ظاہر وباطنی نور کی مالکہ تھیں اس لئے زہرا لقب ہوا ۔چنانچے اس سلسلے میں بھی احادیث مبارکہ کی کافی تعداد آج بھی سیرت وتاریخ اور کتب احادیث میں موجود ہیں جس میں آپ کی نام ”زہرا”ہونے کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے ۔جیسا کہ بعض مورخین نے حضرت امام جعفر صادق بحق ناطق سے یہ حدیث اسی ضمن میں نقل کیا ہے۔

عنالصادققال:سمیتالزهرالانهاکانتاذاقامتفیمحرابهازهرنورهالاهلالسماءکمایزهرنورالکواکبلاهلالارض۔موسوعة سیرت اھل البیت ج9ص49٢:الدمعة الساکبہ ص243

ترجمہ:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :جب جناب سیدہ (س)محراب عبادت میں کھڑی ہو تیں تو آپ (س)کا نور آسمان والوں کو ایسے درخشاں کرتا جیسے ستاروں کی ضیا زمین والوں کو روشن کرتا ہے ۔

تا ہم بعض سیرت نگاروں نے اس روایت کو ان الفاظ میں بھی نقل کئے ہیں ۔

عنالحسنبنیذیدقال :قلتلابیعبداللهلمسمیتفاطمةالزهراقال
:لانلهافیالجنةقبةمنیاقوتهحمراءارتفاعهافیالهواءمسیرةمعلقةبقدرةالجبارلاعلاقةلهامنفوقهافتمسکها
ولادعامةلهامنتحتهافتلزمهالهامائةالفبابعلیکلبابالفمنالملائکةیراهااهلالجنةکمایر
یاحدکمالکواکبالدریالزهرافیافقالسماءفیقولونهذافاطمةعلیهاالسلام۔

الدمعة الساکبہ ص244

ترجمہ :حسن بن یذید روایت کرتا ہے کہ میں نے ابا عبد اللہ (حضرت امام حسین علیہ السلام )سے پوچھا فاطمہ زہرا کیوں نام رکھا ہے ،تو آپ  نے فرمایا :کیوں کہ جنت میں ان کیلئے یاقوت کا ایک قبہ ہے جو لال اور ہوا میں اونچا اور معلق ہے ۔جو کہ اللہ تعالیٰ صاحب قدرت وجبار کی حکم سے ہے اس کیلئے کوئی ستون اور علاقہ (معلق رکھنے کی چیز )نہیں ہے ۔اس کے ایک ہزار دروازے ہیں ہر دروازے کے

پاس ایک ہزار فرشتے موجود ہو نگے ۔آسمان والے اس کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح ہم زمین والے آسمان پر کوکب دری کو دیکھتے ہیں اور کہیں گے کہ یہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی ذات مقدسہ ہیں ۔

لہذا ان احادیث کے بعد ہم معروف سیرت نگار سید جعفر شہیدی کے اس رائے پر اکتفا کرتے ہیں جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ

”فاطمہ زہرا۔عرف عام میں بیشتر زہرا استعمال ہو تا ہے ۔لغت کے اعتبار سے زہرا کا لفظ درخشندہ ،روشن اور اس کے مترادف معنوں کا حامل ہے ۔یہ لقب ہر لحاظ سے اس بانو کیلئے شایان شان ہے وہ مسلمان خاتون کا درخشندہ چہرہ ،معرفت کی تابندہ روشنی ،پرہیز گاری اور خدا پرستی کا روشن نمونہ ہیں ۔یہ درخشندگی کسی خاص لمحے یا معین دن کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔جس دن انہوں نے اپنا فرض نبھایا اس دن سے لیکر آج تک وہ اسلامی تربیت کی پیشانی پر گوہر کی مانند درخشندہ ہیں ۔”حیات فاطمہ (س)ص39

لفظ ”فاطمہ زہرا” کے انہی الفاظ ومطالب کو شاعر آل محمد شہید محسن نقوی نے منظوم انداز میں یوں بیان کیا ہے۔

یہ ”ف”سے فہم بشر کا حامل ”الف ”سے الحمد کی کرن ہے

یہ ”ط”سے طہ کی گھر کی رونق یہ ”م”سے منزل محن ہے

یہ ”ہ”سے ہردوسرا کی سلطان کے دین کی پرنور انجمن ہے

یہ ”ز”سے زینت زمین کی ”ہ”سے ہدایتوں کا چمن ہے

یہ ”ر ”سے رہبر رہ وفا کی ”الف”سے اوّل نسب ہے اس کا

اسی لئے نام ”فاطمہ”ہے جناب ”زہرا”لقب ہے اس کا

-موج ادراک ص93

٣:۔بتول
جناب سیدہ (س)کی بلند پا صفات اور پسندیدہ اطوار کی بنا پر آپ کی متعدد القابات میں سے ایک اہم لقب بتول ہے ۔بتوللفظ ”بتل ”سے ہے جس کی لغوی معنی ”علائق ترک کرنے والی”کے ہیں۔فرہنگ عامرہ ص 85

دوسری القابات کی طرح بتول نام ہو نے کے حوالے سے بھی متعدد احادیث مبارکہ کتالوں میں موجود ہیں ۔ان میں سے بعض کا ذکر ہم یہاں کریں گے ۔جیسا کہ بعض روایات میں بتول کی وجہ تسمیہ یوں بیان ہو ا ہے۔

عنعلیانالنبیسئلمالبتولفاناسمعناکیارسولاللهیقولانمریمبتولوفاطمةبتول ”البتولالتیلمترحمرةقطایلمیحض،فانالحیضمکروهفیبناتالانبیاء ”۔

الدمعة الساکبہ ص243٢:نخبة البیان ص80٣:سلو فاطمہ عن مصائبھا ص293

ترجمہ:حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ  علیہ السلام سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ،یا رسول اللہ آپ نے بتول نام کیوں رکھا،تو آپ نے فرمایا ،ایک حضرت مریم (مادر عیسیٰ)بتول تھیں اور دوسرا فاطمہ بتول ہیں ۔بتول وہ ہے جس نے سرخی نہ دیکھی ہو یعنی حیض سے پاک ہو ۔بے شک حیض انبیاء کے صاحبزادیوں کیلئے نا پسندیدہ ہیں ۔

اور اسی حدیث کو حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی  رحمۃ اللہ علیہ نے یوں نقل کیا ہے ۔

عنرسولاللهانماسمیتفاطمةبالبتوللانهاتبتلتمنالحیضوالنفاسلانذالکعیبفیبناتالانبیاءاوقالنقصان.مودة القربیٰ مودة نمبر 11حدیث نمبر 9ص122

ترجمہ:جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:فاطمہ (س)کا نام بتول اس سبب ہوا ہے کہ وہ حیض ونفاس سے بالکل پاک ہے کیونکہ یہ (حیض ونفاس)پیغمبروں کی بیٹیوں میں عیب ہے اور براویتے نقصان یعنی نقص ہے۔

جب کہ بعض رویات میں بتول کی وجہ تسمیہ یوں بیان ہو ا ہے جیسا کہ یہ روایت کئی سیرت نگاروں نے نقل کئیے ہیں ۔

عنابیهریرهعنالنبیسمیتفاطمةالبتوللانقطاعهاعننساءزمانهافضلاًودیناًوحسباً۔
شرح فقہ اکبر ص133٢:لسان العرب ج1ص312٣:فضائل خمسہ من الصاح الستہ ص156

ترجمہ:ابی ہریرہ نے رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا جناب فاطمہ (س)کو بتول اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دین وشرف کی وجہ سے تمام عورتوں تے منفرد ویگانہ تھیں ۔

جب کہ علامہ ابن منظور نے اس جملے کا بھی اضافہ کیاہے ۔

وقیللانقطاعهاعنالدنیاالیاللهعزوجل      لسان العرب ج1ص312

تارک دنیا اور ہر وقت یاد الٰہی میں مصروف رہتی تھیں اس لئے جناب سیدہ (س)کو بتول کہلائیں۔

٤:۔سیدہ
لفظ ”سید”ساد یسود اور سیادة سے مشق ہے ۔بمعنی شریف ،کریم ،حلیم ،رئیس ومطاع اور سردار ہے ۔         -فرھنگ جدید ص 262

مثلاً سید القوم ،سید المرسلین ،سید السادت ۔چونکہ جناب سیدہ فاطمہ زہرا (س)اوصاف حمیدہ اورنفسانی کمالات کے لحاظ سے تمام خواتین میں اشرف وافضل تھیں اس لئے ”سیدہ”یا ”سیدة النساء العالمین ”کہا گیا ہے ۔

جیسا کہ مودة القربیٰ میں خود جناب سیدہ (س)سے مروی رسالتماب کا حدیث موجود ہے۔

عنفاطمةقالتقالرسولالله:اماترضینانتکونیسیدةنساالعالمیناونسائیامتی۔         مودة القربیٰ مودة  11حدیث  7

ترجمہ:جناب فاطمہ  (س)سے روایت ہے کہ رسول خدا  نے فرمایا :اے فاطمہ کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ تمام عالم کی عورتوں کی یا براویتے میری امت کی عورتوں کے سردار ہو۔

جب کہ سیدہ نساء اہل الجنت ہو نے کے بارے میں یہ حدیث مبارکہ مشہور ہے ۔

عنابیهریرهقالقالرسولالله:انملکاًمنالسماءلمیذرنیفاستاذناللہفیزیارةفبشرنیالییومالقیامةواخبرنیانفاطمةسیدةالنساءاهلالجنةوالحسنوالحسینسیداشباباهلالجنة۔  مودة القربیٰ مودة 12حدیث 3

ترجمہ:ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمے فرمایا ہے کہ ایک فرشتہ جس نے اس سے پہلے مجھ کو نہ دیکھا تھا اللہ تعالیٰ سے اجازت لیکر میری ملاقات کو آیا اور روز قیامت تک کی بشارتیں مجھ کو پہنچائیں اور مجھ کو خبردی کہ فاطمہ بہشتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن او حسین بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔

٥:۔طاہرہ
طاہرہ لفظ ”طہر ”سے مشتق ہے بمعنی پاکی وطہارت کے ہیں۔         فرھنگ جدید ص 340

طاہر اسمائے الٰہی میں سے ایک ہے یعنی امثال واضداد اور ممکنات وصفات مخلوقات سے پاک ومنزہ ۔

حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں کہ جناب سیدہ(س)اخلاق ذمیمہ سے پاک وطاہر ہو نے کی وجہ سے طاہرہ کہلائیں ۔یہاں پر ہم جناب جناب سیدہ (س) کی عصمت وطہارت سے متعلق ایک حدیث مبارکہ نقل کر کے موضوع سمیٹتے ہیں ۔

قال رسولالله:اناوعلیوفاطمةوالحسنوالحسینوتسعةمنولدالحسینوتسعةمنولدالحسینمطهرونومعصومون۔        
مودة القربیٰ

رسول خدانے فرمایا :میں (محمد  )،علیں ،فاطمہ سلام اللہ علیہا،اور حسن وحسین اور حسین کے پیداہونے والے نو(ائمہ)پاک وپاکیزہ ہیں۔

٦:۔مبارکہ
مبارکہ کامعنی سعادت ،خوش بختی اور برکت کے ہیں۔                  فرھنگ جدید ص25

آپ سلام اللہ علیہا مدینة العلم کی بیٹی ،باب مدینة العلم کی زوجہ اور سیدہ طاہرہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی پروردہ تھیں۔رسالت کی درخشاں فضائوں میں آنکھ کھولی ، فضیلت وعصمت وطہارت کے سایوں میں تربیت حاصل کی ۔اس لئے جامع کمالات کی مالکہ تھیں ۔جس کی بزرگی میں کسی کوشک ہو سکتا ۔ذریت

میں عطائے کوثر کی حقیقت تھیں کہ قدرت نے سادات عالم کی جدّہ امجد بنایا ۔علامہ صدوق نے کمال الدین میں لکھا ہے کہ توریت میں جناب سیدہ کا لقب مبارکہ ہے ۔

٧:۔صدیقہ
صدیق کی مونث ہے ۔جس کے معنی بہت سچی اور جس کی عمل اور گفتار ایک جیسا ہے۔ فرھنگ جدید ص353

جس سے آپ کی عصمت کا ثبوت ملتا ہے لہذا اسی وجہ سے آپ کو معصومہ بھی کہ سکتے ہیں ۔

اس لقب سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو نوازا گیا ہے ۔ صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی نہایت راست گفتار ۔رسول پاک  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے حضرت فاطمہ زہرا (س)کو اسی لقب سے پکا را ہے ۔کیونکہ جناب سیدہ (س) کی پوری زندگی صدق وراستی پر مبنی تھی ۔

حضرت عائشہ کہتی ہیں ”میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جناب سیدہ زہرا (س)سے زیادہ راست باز (سچا)کسی کو نہیں دیکھا۔

کتاب نورنظر خاتم النبین ص116

٨:۔زاکیہ
زاکیہ اور بعض روایتوں میں زکیہ ہے ۔جس کے معنی چنا ہوا،پاک و پاکیزہ اور عبادت گزار کے ہیں ۔                فرھنگ جدید ص 222

حضرت امام صادق علیہ السلام کی مشہور حدیث جو ہم نے شروع میں ذکر کیا ۔اس میں زاکیہ ہے جس کی معنی پاک وپاکیزہ نفس والی ہے ۔طاہرہ اور زاکیہ میں فرق یہ ہے کہ طاہرہ وہ جسے فطرت نے پاک طنیت پیدا کیا ہو ۔زاکیہ کسبی چیز ہے جو کوشش اور مشاہدہ سے اپنے نفس کو پاک رکھے۔اگر گناہ صادر ہو اور طلب آمرزش کرے تو وہ زکیہ ہے ۔

جناب زہرا (س)کو زاکیہ ان کی فطری پاکبازی کی بنا پر کہا گیا ہے کہ ہر قسم کی نفسانی برائی ، غضب ، بخل ، حسد ، کینہ اور کبر و عجب سے پاک تھیں۔ان تمام صفات کا نہ ہونا یقینا کمال کی بات ہے ،اس بنا پر آپ کو طاہرہ کے ساتھ زاکیہ یا زکیہ بھی کہا گیا ہے۔

٩:۔راضیہ
راضیہ کی لغوی معنی ”خوش ہونے والی”     فرہنگ عامرہ ص 284

سورہ غاشیہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

وجوهیومیذلسعیهاراضیةفیجنةعالیه سورہ غاشیہ  8-9-10

ترجمہ :کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہونگے ۔اپنی کاوشوں پر راضی جنت عالیہ میں داخل ہونگے ۔نفس راضیہ روز قیامت عیش مرضیہ میں ہوگا ۔راضیہ وہ جو کہ اللہ رضا سے پوری طرح راضی ہو۔جناب سیدہ  (س) کے بارے میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے”فاطمہ کی رضا میری رضا ہے”         کتاب نورنظر خاتم النبین ص 117

١٠:۔مرضیہ
لغت میں مرضیہ کا معنی ہے” جس پر خوش ہو”    فرہنگ عامرہ ص 569

جیسا کہ ان دو نوں القاب ”راضیہ اور مرضیہ ”کے بارے میں روایت موجود ہے کہ

الراضیة و هی رضیت بما اوتیت والمرضیة هی التی رضی عنا         
کتاب نورنظر خاتم النبین ص 117

ترجمہ:راضیہ وہ ہے جو رعطا ئے الٰہی پر راضی ہو اورمرضیہ وہ ہے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات راضی ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

یاایتهاالنفسالمطمئنةارجعیالیربکراضیةمرضیة
 سورةالفجر آ یہ 28

اے نفس مطمٔنہ رکھنے والے اپنے رب کی طرف مراجعت کرو کہ تم اس سے راضی ہو اور تم اس سے راضی ہو ۔

١١:۔محدثہ

لغت میں محدثہ کی معنی ”علم حدیث جاننے والے” کی ہے ۔ فرہنگ عامرہ ص556

امام صادق ںفرماتے ہیں کہ  جناب سیّدہ (س) کو محدثہ اس لئے کہتے ہیں کہ فرشتے جناب سیدہ (س) سے بات کیا کرتے تھے جس طرحضرت مریم (س) سے بات کرتے تھے۔

خاتمہ
کتب سیرت و تاریخ وحدیث میں منقول ان ناموں کے علاوہ جن کا ہم نے ذکر کیا ،صاحب موسو عة الکبریٰ نے ایک اور روایت جناب سیدہ (س) کے القابات کے حوالے سے اپنے کتاب میں تحریر کیا ہے ،ہم قارئین کے استفادہ اور معلومات کے لئے نقل کرتے ہیں۔

واسمهافیالتوراةعادلهوفیالانجیلمخدومهوفیحدیثالتزویجسماهااللهالنوروفیکتابجاماسبا
بخورشیدجهاںوفیکتابزندشاهزنانوفیکتابذهروهریهودتاجالنساءوفیکتابالبراهمةشمسکبر
یوفیکتابالیونانینبانالملکیحدثمعبنتنبیآخرالزمانکمایتکلممعامالمسیح۔

الموسوعة الکبریٰ عن فاطمة الزھرا ج18ص368

ان کا (جناب سیدہ)کا نام تورات میں عادلہ (عدل کرنے والی)ہے اور انجیل میں مخدومہ ہے اور حدیث تزویج میں اللہ تعالیٰ نے نور کہا ہے ،اور کتاب جاما سباب میں خورشید جہاں (کائنات کی سورج)اور کتاب زند میں شاہ زنان کہا ہے ۔کتاب ذھر وھر یہود میں تاج النسا (عورتوں کی سرکے تاج)کہا ہے اور کتاب براہمہ میں ان کا لقب شمس کبریٰ (بڑا سورج)ہے۔کتاب یونانین میں کہا ہے کہ فرشتے نبی آخر الزمان ۖکی بیٹی سے کلام کرتے تھے جس طرح حضرت عیسیٰ مسیح  ں اپنے والدہ (حضرت مریم سلام اللہ علیہا)سے بات کرتے تھے۔

اس کے علاوہ بھی کتابوں میں جناب سیدہ (س) کی کچھ اور اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات اور وجہ تسمیہ کے حوالے سے محدثین اور مورخین سب خاموش ہیں ،وہ اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔

١۔ منصورہ ٢۔ الحورا ٣۔ عذرا ٤۔تقیہ ٥۔امة اللہ ٦۔الحرہ ٧۔حصان ٨۔ حانیہ ٩۔نوریہ ١٠۔ مریم کبری وغیرہ ۔

لہذ ا ان کی تفصیلات دستیاب یہ ہونے کی بنا پر ہم یہاں پر مرزا محمد نظام العلماء نائینی کا منظوم کلام پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے ان تمام القابات کا بھی ذکر کیا ہے ۔
والقابهاتذکرةفیالکتاب  کمااتتفیکتبالاصحاب
معصومه،رضیه،مرضیه صدیقة،میمونة،زکیة
والبضعةوالنبویةبها        قرینةمنجملةالقابها
ذاتصفاتمنابیهامورثه      والبعضمنالقابهامحدثه
والدرةالبیضاءوالمبارکة         سیدةالنساءبلامشارکة
فاطمةالزهراءوالعذرا      وابنةمختارلهاالعلیا
نظیرهافیالعالمینلایری    سمیتامالحسنینفیالوری
امالفضائلوامالخیرة        وامالطهارهیالمطهره
وامالازهادبتولزاهرة        امالائمةلهاالمفاخرة
امابیهاقیلمنکناها ولیطلبالتحقیقفیمعناها
الموسوعة الکبری عن فاطمة الزھرا ج18ص 347,348

اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو جناب سیدہ (س) کی صحیح معنوں میں معرفت ہونے کر ان کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے اور ہم سب کو بروز قیامت جناب زہرا (س) و آل زہرا (ع) کی شفاعت سے فیضاب ہونے کی توفیق عطا فرمائ۔(آمین)

منابع
١۔       قرآن مجید ،ترجمہ :شیخ محسن علی نجفی

٢۔       الموسوعة الکبریٰ عن فاطمة الزھرا ،تالیف : اسماعیل انصاری الزنجانی الخوینی ‘ناشر :دلیل ما قم ایران ،سنہ اشاعت  ١٣٨٧ ق

٣۔       الدمعة الساکبة فی احوال النبی والعترة الطاھرہ،تالیف : محمد باقر عبدالکریم البھبانی ‘ناشر :موسسة الاعلمی بیروت لبنان ،سنہ اشاعت  ١٤٠٨ ھ

٤۔       نخبة البیان فی تفضیل سیدة النسوان ،تالیف : السید عبدالرسول الشریعتمداری ‘ناشر:مرکزالنشر التابع لمکتب اعلام الاسلامی ایران سن ،سنہ اشاعت ١٤١٧ھ

٥۔       کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال ،تالیف :علامہ علی متقی ہندی ‘ناشر:موسسة الرسالہ بیروت لبنان ،سنہ اشاعت ١٤٠٥ھ

٦۔       فضائل خمسہ من الصاح الستہ ،تالیف :علامہ مرتضیٰ الحسینی فیروز آبادی ‘ناشر: موسسة الاعلمی بیروت لبنان،،سنہ اشاعت١٤٠٢ھ

٧۔       سلوا فاطمة عن مصائبھا، تالیف :ھشام آل قلیط ‘ناشر: منشورات الفجر بیروت لبنان،سنہ اشاعت ١٤٢٩ھ

٨۔       فاطمة الزھرا ء من المھد الیٰ الحد،تالیف : السید محمد کاظم القزوینی ‘ناشر : مکتبة دار الانصار قم ایران ،سنہ اشاعت١٤٢٢ھ

٩۔       موسوعة سیرة اھل البیت ، تالیف : باقر شریف القریشی ‘ ناشر : دار المعروف قم ایران ،سنہ اشاعت ١٤٣٠ھ

١٠۔     لسان العرب ، تالیف : علامہ ابن منظور ‘ ناشر : دارالاحیا ء التراث العربی بیروت لبنان ،سنہ اشاعت١٤٠٨ھ

١١۔     شرح فقہ اکبر ،تالیف : ملا علی قاری ‘ ناشر : مطبع مجتبائی دہلی ہندوستان

١٢۔     ینابیع المودة ، تالیف : شیخ سلیمان ابن ابراہیم البلغی قندوزی ‘ناشر : موسسة الرسالہ بیروت لبنان

١٣۔     غایة الاجابة فی مناقب القرابة ، تالیف : ڈاکٹر محمد طاہر القادری ‘ناشر : منہاج القرآن پبلی کیشنر لاہور پاکستان ،سنہ اشاعت ٢٠٠٦ء

١٤۔     المودة القربیٰ ،تالیف : شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی ‘ترجمہ :آخوند محمد تقی حسینی ‘ناشر : جامعہ باب العلم سکردو ،سنہ اشاعت٢٠١٢ء

١٥۔     انوار زھراء ،تالیف : سید حسن ابطحی ‘ ناشر : نشر حازق مشھد مقدس ایران ،سنہ اشاعت١٣٧٣ق

١٦۔     حیات فاطمہ ،تالیف : سید جعفر شہیدی ‘ ناشر : مرکز تحقیقات اسلامی اسلام آباد پاکستان ، سنہ اشاعت ٢٠٠٣ء

١٧۔     نور نظر خاتم النبین ،تالیف : سید علی اکبر رضوی ‘ ناشر : ادارہ ترویج علوم اسلامیہ کراچی پاکستان ،سنہ اشاعت٢٠٠٦ء

١٨۔     المنجد ، ناشر: دارالاشاعت کراچی پاکستان،سنہ اشاعت ١٩٩٤ء

١٩۔     فرھنگ عامرہ ،تالیف : محمد عبداللہ خان خویشگی’ناشر : مقتدرہ قومی زبان  اسلام آباد پاکستان ، سنہ اشاعت ١٩٨٩ء

٢٠۔     فرھنگ جدید عربی بہ فارسی ، تالیف : فواد ام البستانی ، ترجمہ : محمد بندریگی ‘ ناشر : انتشارات اسلامی تہران ایران ،سنہ اشاعت١٣٨٣ق

٢١۔     موج ادراک ،مجموعہ کلام : محسن نقوی ‘ ناشر : ماورا پبلی کیشنر لاہور پاکستان،بار پنجم