اولاد کی صحیح تربیت وقت کی اہم ضرورت


تحریر


اولاد کی صحیح تربیت وقت کی اہم ضرورت
تحرير: مولانا محمد ابراہیم غزنوی کھرکوی

کسی بھی معاشرے کی ترقی و ترویج اور معاشرے کی نیکی یا بدی میں جوانوں کا بڑا کردار ہوتاہے ۔ اگر نوجوان نیک اور اچھی صفات کے حامل ہوں تو معاشرہ بھی نیکیوں پر اچھائیوں پر مشتمل ایک بہترین معاشرہ کہلائے گا ورنہ اس کے برعکس ہی ہوگا۔ اصل سوال یہاں پر یہ ہے کہ ایسے بہترین اور نیک جوانوں کو کیسے تیار کیا جائے جو ایک بہترین معاشرے کو تشکیل دے سکیں ۔ اس سوال کے جواب میں ہر صاحب عقل و شعور یہی کہیں گے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تا کہ یہی تربیت یافتہ بچے کل کو ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرسکے ۔
قرآن و روایات کی روشنی میں اولاد کی صحیح تربیت کے حوالے سے سب سے پہلا درس جو ہمیں اپنے بچوں کو دینا چاہیے وہ خدا کی وحدانیت کا درس ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید اس حوالے سے لقمان حکیم کی مثال پیش کرتا ہے :
وَ إِذْ قالَ لُقْمانُ لاِبْنِهِ وَ هُوَ يَعِظُهُ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظيمٌ. (سوره لقمان، آيت 13)
اور لقمان نے جب اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہو کہا: اے بیٹا !اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرانا، یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔
احادیث کی روشنی میں یہ ایک مسلم بات ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ فطرت اسلام پر ہی ہوتا ہے ۔اس کے بعد والدین کی تربیت کے اوپر انحصار ہے کہ بچے کو جس سانچے میں ڈال دے وہ اسی میں ڈھل جاتا ہے ۔
آج مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے اہم مسائل میں سے ایک اپنے بچوں کی تربیت کا فقدان ہے اس کی اہم وجہ تریت و تعلیم سے نا آگاہی ہے ۔ تربیت کا معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنی پچوں جوکہ مستقبل کے معمار ہیں صحیح معنوں میں تربیت نہیں کر پا رہے ہیں۔ اپنی طبیعت کے خلاف پرورش کرنے کا نام تربیت نہیں ہے ۔کرتب سیکھانا تربیت نہیں ہے۔ تربیت سے مراد علامہ اقبال رح فرماتے ہیں : میں قسم کھاتا ہوں اس رب کریم کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، وہ مالک یوم الدین ہے،قسم کھاتا ہوں اس رب کی جو مالک کل ہے تربیت سے مراد:تعلیم کا مقصد اس خاک کے فرزند کو اللہ تعالی تک پہنچانے کا نام تربیت ہے۔تعلیم کا مقصد صرف اور صرف انسان کو زوال سے باکمال بنانے کا نام تربیت ہے ۔ مسخ شدہ انسان کو تعلیم یافتہ نہیں کہا جا سکتا۔علامہ فرماتے ہیں:
شکایت ہے مجھے یا رب! خدواندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازي کا
[بال جبرائیل ]
اپنے شاہین بچوں کو خاک بازی کا سبق دے یہ کوئی تعلیم تو نہیں ہےکیونکہ شاہین کی صفت پلٹنا،جھپٹنا ، جھپٹ کر پلٹنا ہے لیکن اگر اس کو خاک بازی[یعنی مٹی سے کھیلنے ] کا سبق دے تو یہ تربیت میں نہیں آتا ہے بلکہ مسخ شدہ تربیت ہے اس لئے عزیزان گرامی ہمیں لفظ تربیت کے اوپر فوکس کرنا چاہیے ۔کس طرح بچوں کی پرورش کرنی ہے اور کس طرح بچوں کو زوال سے کمال کے مقام پرپہنچانا ہے کیونکہ بچے مستقبل کے معمار ، خاندان کی بقاء کا ذریعہ ،اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک نعمت اورقوم کی کثرت اور پہچان کے اسباب ہیں ۔اسلام اپنے زیر اثر معاشرے میں اولاد کو اپنی معاشرتی اور سماجی اقدار کے تعارف ،بقاء اور تحفظ کا ذریعہ تصور کرتا ہے۔ اسلام اولاد کو نعمت عظمی قرار دے کر اس کی تربیت اور نگہداشت کا حکم دیتا ہے اسلام نے خاندان کا جو تصور دیا ہے اس کی ایک اہم اکائی تربیت یافتہ اولاد کی صورت میں بچے ہیں۔لہذا ضروری اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بچوں کی پرورش اور تربیت میں کوتاہی سے کام نہ لیں اسی وجہ سے حضور پر نور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے:
كُلُّكُمْ‏ رَاعٍ‏ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. یعنی تم میں سے ہر ایک اپنے اہل و عیال کے ذمہ دار ہو اور ان کے بارے میں تم سے [قیامت کے دن] پوچھا جائے گا۔ حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہم صرف اپنے اعمال کے نہیں بلکہ اپنے اہل و عیال اور خاندان کے حرکات و سکنات کے بھی ذمہ دار ہیں ۔ تقریباً اسی مفہوم کے مطاق ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خود بھی نیک اعمال انجام دو اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی ترغیب دو ۔
ان احادیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے اسلام میں تربیت اولاد کی بہت بڑی اہمیت اور وقت کی ضرورت بھی ہے، مگر افسوس کی بات ہے بلکہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ میں معذرت کے ساتھ مخاطب ہوں ہماری نوجوان نسل کے ساتھ بلکہ یوں کہو ں تو زیادہ بہتر ہے۔ میرے دل کی آہ ہے۔میرے دل کی آواز ہے ،ہماری نوجوان نسل دین سے بے زار کیوں ہے؟ ہمارے کل کا معمار دین سے اتنے دور کیوں ؟ انہیں فرائض اسلام کے بارے میں معلومات کیوں نہیں ہے؟یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے کوچ کر جاناہے پھر بھی ہم ان چیزوں کے اوپر غور وفکر کیوں نہیں کرتے؟
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
نوجواني را چو بينم بي ادب
روز من تاريک مي گردد چو شب
جب ايک جوان بے ادب دیکھتا ہوں تو ميرا دن رات کي طرح تاريک هوجاتا ہے ۔
علامہ اقبال کو بچوں سے بڑی محبت تھی ۔وہ جانتے تھے کہ آج کے بچے کل کے معمار ہیں اس لیے بہتر ہے ان کی بہتر انداز میں تربیت کی جائے اور زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے اسی وجہ سے علامہ اقبال نے بچوں میں اچھی اچھی عادتیں پیدا کرنے اور ان کی بہتر تربیت کے لیے سبق آموز نظمیں لکھیں۔ جن میں نظم ہمدردی لکھ کر بچوں کو یہ سکھایا کس طرح دوسروں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا ہے۔ مکڑا اور مکھی کی داستان بیان کر کے بچوں کو مکروفریب سے بچنے کی تلقین کیا ،پہاڑ اور گہلری کے ذریعے بچوں کو سمجھایا ہے کہ کبھی غرور و تکبر نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی کسی کو اپنے سے کم تر اور ادنی سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح پرندے کی فریاد سنا کر بچوں کو آزادی اور غلامی میں واضح فرق بیان کیا۔ لہذا میرے مسلک کے غیور اور جانثار جوانو میں آپ سے مخاطب ہوں پرورش اولاد کے لیے اپنی ہر چیز قربان کر دو۔ اسی لفظ تربیت کے اوپر انبیاء کرام ائمہ طاہرین۔اولیائے کرام نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے تاکہ ہم میں سے ہر ایک کمال تک پہنچ سکے ۔
رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ادّبوا اولادكم‏ على‏ ثلث‏ خصال‏ حبّ نبيّكم و حبّ اهل بيته و تلاوة القرآن‏
ترجمہ: اے لوگو! تمہاری اولا کو تین چیزوں کی تربیت دو :تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت،اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور قرآن مجید کی تلاوت ۔یعنی ان تین چیزوں کے بارے میں اپنے بچوں کو ضرور آگاہ کریں، کیونکہ میں نے شروع میں کہا تھا :تربیت سے مراد انسان کو زوال سے کمال تک پہنچانے کا نام ہے۔لہذا ہم جب تک ان تین چیزوں کی محبت ہماری دلوں میں نہیں ہے تب تک ہم مقام کمال تک پہنچنا دور کی بات ہے ۔اسی وجہ سے حضور اکرام ص نے فرمایا :آخری امت کے والدین پر افسوس ہے۔ اصحاب نے پوچھا :یا رسول اللہ کیا آخری امت کے والدین مشرکین میں سے ہونگے؟آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ کلمہ گو مسلمان ہوں گے لیکن وہ فرائض اسلام کے مطابق اپنی بچوں کی پرورش نہیں کریں گے۔ انہیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ نہیں کریں گے ۔
لہذا میرے مسلک کے جوانواوربزرگو! آج کے بعد ہم عہد کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو طریقہ ہمیں دیکھایا ہے اسی طریقے کے مطابق ہم اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کریں گے۔ پہلے ذکر شدہ احادیث کی روشنی میں آج سے ہم یہ عہد کریں ہمارے بچوں کے دلوں میں اہلبیت علیہم السلام کی محبت راسخ کریں گے۔ہمارے بچوں کو معلوم ہو کہ ہمارے امام کتنے ہیں؟اول امام کون ہے آخر امام کون ہے؟ آج سے ہم عہدکریں بچے جو ہمارے کل ہیں ان کو مسلک حقہ کے تمام عقائد و عملیات کے بارے میں ہر روز کچھ دیر کے لیے درس دیں گے کیوں کہ بچے کا پہلا درس گاہ ماں کی گود ہے۔
اس دعا کے ساتھ اپنے عرایض کو تمام کرتا ہوں کہ پروردگار! ہمیں اپنے بزرگان کی تعلیمات جو حقیقت میں محمد و آل محمد علیہم السلام کی تعلیمات کا عکس ہے ان کو پڑھنے اور سمجھنے کے ساتھ اپنی آنے والی نسلوں تک بہتر انداز میں پہنچانے کی توفیق عنایت کرے و روز حشر انہیں ہستیوں کے ساتھ محشور فرما۔آمین