حضرت امام حسین علیہ السلام صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام حسین علیہ السلام


سیرت مبارکہ حضرت

امام حسین علیہ السلام

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
امام حسین علیہ السلام
ولادت باسعادت حضرت امام حسین علیہ السلام
قال اللّٰہ تعالیٰ فی کتابہ المجید وفرقانہ الحمید ووصینا الانسان بوالدیہ احسانا حمتلہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصالہ ثلاثون شہرا حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی ان اشکرا نعمتک التی انعمت علی وعلی وان اعمل صالحا ترضہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین۔
(سورہ احقاف پارہ ۲۶ )
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین ست حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
نام نامی‘ لقب
آپؑ کااسم مبارک حسین وشبیر ‘والد ماجد کا نام علی ‘والدہ ماجدہ فاطمہ زہراؑ ہے
لقب ذکی سید سبط رسول سید الشہدا کنیت ابو عبداللّٰہ آپ کی مشہور کنیت ہے ۔جائے ولادت مدینہ المنورہ اور تاریخ پیدائش۳ شعبان معظم ۴ ہجری ہے۔
بعض کتابوں میں ۵ شعبان مذکور ہے ۔
وجہ تسمیہ :۔ روایت ہے کہ حضرت علی ؑ نے رسول سے عرض کیا میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کا نام اپنے بھائی کی طرح جعفر رکھوں آپکا کیا خیال ہے حضورؐ نے فرمایا اس کا نام رکھنے کے سلسلے میں اللّٰہ رب العزت پر سبقت نہ کروں گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ خود اس کا نام تعین کرے گا اتنے میں جبریلؑ وحی الٰہی لے کر نازل ہوئے اور عرض کی یارسول اللّٰہ اللّٰہ آپکو مبارک باد کہتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ اس کا نام حضرت ہارون کے دوسرے بیٹے کا نام رکھو (یعنی)شبیر آپ نے فرمایا اے جبریل یہ تو عبرانی زبان کا نام ہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے عربی زبان عطاء فرمائی ہے میں اپنے بیٹے کا نام عبرانی زبان میں کیسے رکھوںجبریلؑ نے عرض کی اے اللّٰہ کے رسولؐ عربی لغت میں شبیر کے معنی حسین ہے چنانچہ حضورؐ نے آپ کا نام حسینؑ رکھا۔
لعیاء خانہ فاطمہؑ میں دائی کی حیثیت سے
عبد اللّٰہ بن عباس روایت ہے جب امام حسین کی ولادت کا وقت قریب ہوا تو اللّٰہ نے لعیاء کو حکم کیا کہ فاطمہؑ کے دولت خانہ میں جاکر گھر کا انتظام سنبھالو لعیاء ستر ہزار حوروں کی سردار تھی ستر ہزار حوریں ان کی خدمت کے لئے معین تھیں اور اس کو خدا نے ایسا حسن عطاء کیا ہے کہ اس کے نور سے تمام بہشت منور ہوتی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے اسی روز رضوان جنت کو حکم دیا کہ دس لاکھ فرشتوں کے ساتھ روئے زمین پر جائیں آج میرے ایک عبد خاص کا ظہور ہونیوالا ہے الغرض جب لعیاء خانہ زہرا میں آئیں تو فاطمہ کی کچھ متردد ہوتی ہیںکہ لعیاء کے لئے بچھونا کہاں سے لائیں اتنے میں ایک حور جنت سے بچھونا لے آئی اور لعیاء نے حضرت فاطمہ کے گھر میں ایک دائی کی حیثیت سے خدمت انجام دینے پر فخر محسوس کیا جب وجود امام حسین علیہ السلام اس عالم میں ظہور ہوا تو لعیاء نے انہیں ایک رومال میں لپٹایا جو خصوصی طور پر بہشت سے ساتھ لائی تھیں۔
امام کو درگاہ رسول میں لانا
ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ رسولؐ نے حضرت نے فاطمہؑ سے فرمایا اے میرے لخت جگر جبرائیل نے مجھے خبردی ہے کہ تمہارے ہاں لڑکا پیدا ہوگا پس جب تک میں نہ آؤں ایسے دودھ نہ پلانا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب رسولؐ تشریف لائے تو فاطمہ نے عرض کیا بابا میں نے حسینؑ کو دودھ نہیں پلایا ہے آپ نے فرمایا میرے بیٹے کو لاؤ چنانچہ اسماء بنت عمیس جب حسین علیہ السلام کو لائی تو رسول خداؐ نے گود میں لیا اور ان کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اس کے بعد آنحضرت نے اپنی زبان حسین علیہ السلام کے منہ میں دے دی حسین علیہ السلام زبان رسول کو چوسنے لگے حضرت اسماء بنت عمیس کہتی ہیں میں سمجھی کہ زبان رسول سے شیر یا شہد جاری ہوا ہے حضرت امام حسین علیہ السلام نے زبان رسول اور فاطمہ کے دودھ کے علاوہ کسی اور کا دودھ نہ پیا خداوند عالم نے حسین علیہ السلام کی پھیلی غذا زبان رسول کو قراردیا پس امام حسین علیہ السلام کے گوشت کی ابتدا رسول کے گوشت سے اور خون رسول کے خون سے بنا جب حسین علیہ السلام نے زبان رسول چوسی اس وقت آپ نے فرمایا
ھی فیک وفی ولدک
اے حسین علیہ السلام تم بہت خوش قسمت ہو کہ سلسلہ امامت قیامت تک تمہاری ہی نسل میں رہے گا قرآن میں آیا ہے
وجعلنا کلمۃ باقیۃ فی عقیہ
فضل نے مولا سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے امامت نسل حسین علیہ السلام میں قراردی گئی حالانکہ امام حسین علیہ السلام سے امام حسن علیہ السلام بڑے تھے آپ نے فرمایا موسیٰ وہارون حقیقی بھائی تھے اور موسیٰ بڑے تھے ہارون سے‘ مگر سلسلۂ نبوت اولاد ہارون میں قرار دیا۔ گیارہ فضل یہ سب خالق کائنات کی حکمت ہے اور فعل حکیم حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ فعل الحکیم لا یخل من الحکمۃ۔ اس لئے انسان کو اللّٰہ تعالی کے کاموں پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
لا یسئل عما یفعل و ھو یسئلون۔
رسول اکرم ؐ کومبارک بادی کے لئے روح الامین کا نازل ہونا
حضرت جبریل بحکم خدا ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ پیغمبر خدا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ سلم کے حضور تشریف لائے اور خدا کی طرف سے مبارک باد دی ۔ جبریل نے بحکم خدا ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ مخضر رسول اکرم ؐ میں مبارک باد پیش کی۔ اور فرمایا اللّٰہ تعالی آپ کو مبارک باد دیتا ہے ا ور تعزیت بھی۔ تو آنحضرت نے فرمایا جبریل مبارکباد دینے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تعزیت پرسی کیوں؟ حضرت جبریل نے یا رسول اللہؐ حسینؑ کے خلق کی جگہ جو ابھی ابھی آپؐ چوم رہے تھے اسی مقام کو ان کی والدہ کے وصال اور والد و برادر کی شہادت کے بعد آپ کی امت تیغ جفاء سے کاٹے اور شہید کرے گی۔ رسول اللّٰہ ؐ نے فرمایا اے جبریل آیا میری امت میرے امت میری فرزند کو قتل کرے گی جبریل نے کہا ہاں۔ رسول خدا نے فرمایا وہ میری امت سے نہیں ہو گا جس نے میرے بیٹے کو شہید کیا میں ان سے بے زار ہوں خدا بھی ان سے بیزار ہے۔ رسول اکرمؐ یہ دل سوز واقعہ جبریل سے سن کر اشکبار ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام وہاں موجود تھے انہوں نے آپ سے رونے کا سبب پوچھا تو آپ نے جبریل کی بات وہرائی۔ بیٹے پر ہونے والے ظلم و ستم کو سن کر حضرت علیؑ کی آنکھوں میں ابر بہار کی طر ح آنسو جاری ہو گئے حضرت رسول اکرم ؐ نے حضرت فاطمہ ؑ سے بھی حسین ؑ پر ہونے ظلم و ستم کو بیان کیا جب حضرت فاطمہ ؑ سے گریہ و زاری بلند ہوئی تو جبریل امین وحی لے کر دوبارہ محضر رسول اکرم ؐ میں حاضر ہوئے اور فرمایا اے اللّٰہ کے رسول اللّٰہ آپ کو سلام کہتا اور بشارت دیتا ہے کہ ان کی نسل سے نو امام پیدا ہوں گے۔
آج کے اس دور میں لوگوں میں یہ مسئلہ موضوع سخن بنا ہوا ہے کہ آیا غم حسین میں رونے والوں کے لئے رونا ذریعہ ٔ نجات ہے یا نہیں؟بعض حضرات ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ اگر رونے میں ہی نجات ہے تو نماز‘ روزہ اور دیگر اعمال بجالانے کی ضرورت نہیں۔ جب ہمیں یقین ہو کہ غم حسین سے نجات ملتی ہے تو صرف محرم کے دس دنوں میں خوب روئیں باقی دنوں میں جو چاہیں کرتے رہیں؟
دوسرا اشکال یہ ہوتا ہے کہ صرف غم حسین میں رونے کا اتنا ثواب ہو حالانکہ نماز حج وغیرہ اگر نہ بھی ادا کریں اسی طرح سے ایک قسم کی چھوٹ مل جائے گی۔ جس کے نتیجے میں انسان نماز وغیرہ کی ادائیگی میں پہلو تہی کرے گا۔ اس لئے ہم غم میں رونے والوں کیلئے جنت کی خوشخبری جو رسول خدا اور دیگر ائمہ معصومین ع کی روایات میں موجود ہیں ان کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔
یہ سب اعتراضات اور باتیں اللّٰہ تعالیٰ کے عظیم فضل و کرم کو ہماری کوتاہ عقل سے محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید بہت سی جگہوں پر مختصر کام کیلئے اتنا اجر رکھا ہے کہ ہم حیران ہوجاتے ہیں۔ ان آیات مبارک میں بھی ہم اپنی کوتاہ عقل کو جگہ دیں تو امکان ہے کہ تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے دین سے نکل جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سورہ ٔ بقرہ میں فرماتا ہے۔
الذین ینفقون فی سبیل اللّٰہ ثم لا یتبعون منا ولا اذی لہم اجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔
ہو لوگ جو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے دینے کے بعد کسی قسم تکلیف احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر نہیں پہنچاتے ان کے اپنے رب کے ہاں پاس اجر عظیم ہے۔ ان کے نہ کوئی خوف لاحق ہے اور نہ کوئی حزن۔
صدقہ ٔمستحب دینے والوں کیلئے اللّٰہ تعالیٰ نے اتنا اجر رکھا کہ کسی قسم کی حکمیت سے حصر نہیں کیا اور کہا ان کے دئیے ہوئے صدقہ کے عوض ہمارے پاس اجر عظیم ہے۔ پس ہم اپنی کوتاہ عقل سے اجر عظیم کو کسی طرح سے بھی حصر نہیں کرسکتے۔ یہ بھی امکان ہے کہ اجر عطیم مراد جنت ہو یا کوئی اور چیز۔ جب اللّٰہ تعالیٰ نے غیر واجبی صدقہ کے ثواب کو مہمل رکھا اور ہر مسلمان اس کر تسلیم کرتا ہے۔ جبکہ غم حسین میں رونے والوں کیلئے ثواب حصر میں ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ غم حسین میں رونے والے جنت کے حقدار ہوں گے۔ باوجودیکہ اس کو تسلیم نہ کرنے وجہ کیا ہے؟ کیا غم حسین میں آنسو بہانا مستحب صدقہ کے برابر نہیں؟
اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ
مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللّٰہ کم۔چل حبۃ انبت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ واللّٰہ یضاعف لمن یشاء واللّٰہ واسع علیم۔
اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال اس دانہ کی سی ہے جب بویا جاتا ہے تو اس سے سات بالیاں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوتے ہیں اور اگر اللّٰہ چاہے تو اس سے بھی زیادہ کردیتا ہے۔ اور اللّٰہ زیادہ جاننے والا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے صدقے کے اجر کو ایک بار پھر واضح طور بیان فرمایا ہے تاکہ کسی قسم کی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اگر گندم کا ایک دانے سے ساقت بالیاں اور ہر بالی سے سو سو دانے یعنی ایک دانے سے سات سو دانے۔ پس اگر ایک شخص ایک درہم یا ایک روپیہ اللّٰہ کی راہ میں محض اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے خرچ کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے ایک روپیہ کے عوض سات سو روپے خرچ کرنے کا ثواب عطا کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہماری ذات چاہے تو اس سے بھی زیادہ اجر دے سکتی ہے۔ زیادہ کتنا دے گی آیت میں بیان نہیں ہوا۔ خدا وہاب ہے چاہے تو بندے کے تمام گناہوں کو بخش دے ہم حصر نہیں کرسکتے۔ اور جب غم حسین میں رونے والوں کیلئے رسول نے جنت کی خوشخبری دی ہے اور فاطمہ ؑ کا قیامت کے دن شفاعت کرنے کا وعدہ کیا تو ہم لاکھوں اشکالات کرتے ہیں۔ کیا یہ ہماری کم عقلی نہیں کیا ہم غم حسین میں رونا ایک روپیہ کے صدقے کے برابر نہیں سمجھتے۔ کیا ہم رسول کی حدیث کی تکذیب کر سکتے ہیں؟
عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم قال اذا کان یوم القیامۃ نادیٰ منادی من بطان العرش یا اہل القیٰمۃ اغمضوا ابصارکم لتجوز فاطمۃ ابنت محمد مع قمیص مغضوب بدم الحسین فتحتوی علیٰ ساق العرش فتقول انت الجبار العدل اقضی بینی وبین من قتل ولدی فیقضی اللّٰہ بنتی ورب الکعبہ ثم تقول اللہم أشفعنی فیمن بکیٰ علیٰ مصیبتہ فیشفعہا اللّٰہ فیہم
(المودۃ القربیٰ ۸۱)
حضرت محمدؐ نے فرمایا روز محشر ایک منادی وسط عرش سے ندا کرے گا اے اہل محشر اپنی آنکھوں کو بند کرلو تاکہ دختر رسول خون حسینؑ سے رنگین شدہ قمیص کو اپنے ہمراہ لئے ہوئے گزر جائیں پس فاطمہؑ عرش کے ستون کو پکڑ کر عرض کریگی اے اللّٰہ تو جبار اور عادل ہے میرے فرزند کے قاتلوں اور میرے درمیاں فیصلہ فرما۔ رب کعبہ کی قسم اللّٰہ تعالیٰ میری بیٹی کے حق میں فیصلہ کرے گا اس کے بعد فاطمہ درگاہ باری تعالی میں عرض کریں گی اللّٰہ مجھے غم حسینؑ میں رونے والوں کے واسطے شفیع بنا تب اللّٰہ انکو حق شفاعت دے گا
وعن رسول کل عین باکیۃ یوم الجنۃ الا عین بکیت علیٰ الحسینؑ فانہا ضاحکۃ متبشرۃ بنعیم الجنۃ ٓ
قیامت کے دن تمام لوگ قیامت کی ہولناکی سے روتے ہونگے مگر وہ آنکھیں جو غم حسینؑ میں روئی ہوں وہ قیامت کے دن ہنستے ہوئے جنت میں داخل ہونگے۔ کیا ہی خوش قسمت ہے وہ مرد مومن جو قیامت کے دن عالم نفسانفسی میں اس کے ہاتھ میں دخول جنت کا پروانہ ہو۔
اس اشکال کو رفع کے لئے ہم بہت اختصار کے ساتھ دلیل لائینگے تاکہ دل کو اطمینان ہوجائے کہ کام بہت مختصرا مگر اجر اتنا زیادہ ہماری عقلیں درک نہیں کرسکیں مگر اس شخص کے جس کے دل میں رحمت خداوند کا واضح عقیدہ ہو۔
اکیسویں ماہ رمضان میں یہ دعا پڑھنے ور سنے والے کے لئے ثواب
(۱) ۔اللّٰہ پاک ستر ہزار فرشتوں کو حکم فرماتا ہے کہ اس بندے کو ظالم بادشاہ اور غالب حاکم کی ذیادتیوں سے بچاکر رکھیں
(۲)۔ روزے کے ہرہر دن کے عوض میں اس کے لئے ساتھ ساتھ سال روزہ رکھنے کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے
(۳)۔ عذاب قبر اٹھالیا جاتا ہے اور اس کی قبر روشن رہتی ہے
(دعوت صوفیہ امامیہ)
کیا ہماری کوتاہ عقل ایک دن روزہ رکھنے کے بدلے میں اتنے اجر دینے کو تسلیم کرے گی ہاں وہ مرد حق جو اللّٰہ کی رحمت وکرم پر کامل اعقاد رکھتا ہو وہ تسلیم کرے گا مگر جسکے دل میں مرض ہو وہ مختلف حیلہ بہانے کرکے رد کرنے کی سر توڑ کوشش کریں گے چونکہ قران بعض کے لئے زریعہ رحمت اور بعض کے لئے زحمت ہے نبی کے وجود سے بعض کی قسمت بدل گئی اور بعض نبی کے وجود سے شقی القلب ہوگئے
۲ بیسویں رمضان میں روزے رکھنے کے فضائل
رمضان کی بیس تاریخ کی دعا پڑھنے والے اور سننے والے کو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا ثواب عطا فرمائے گا۔ (دعوات صوفیہ امامیہ) ایک دن روزہ رکھنے والے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا ثواب ملتا ہے تو یہ بات تمام اسلامی فرقوں کا متفق علیہ مسلٔہ ہے کہ تمام انبیاء جنت میں جائیں گے ذرا بتائیں اگر ایک شخص کو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا ثواب ملے تو وہ شخص جنت میں جا ئیں گے یا جہنم میں؟ کیا غم حسین ؑ کی فضیلت اتنی نہیں؟ نماز ہدیہ رسول اللّٰہ ؐ اور آئمہ پڑھنے والے کے لئے امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں اگر کوئی نماز ہدیۂ رسول اللّٰہ ؐ پڑھے تو اس کو اللّٰہ تعالی اتنے ثواب دذے گا کہ اگر کوئی سونے چاذی سے لدے ہوئے چایس اونٹ اللّٰہ کی راہ میں خیرات کرے تو بھی اس نماز کے پڑھنے والے کے ثواب کے برابر نہیں ہو گا۔ ذرا انصاف کریں ان کے نام پر دو رکعت نماز پڑھنے سے اتنا ثواب ہو اور ان پر رونے سے ثواب نہ ملتا ہو کیا یہ انصاف ہے؟ غم حسین ؑ میں رونے پر جنت ملنے کے وعدے سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نماز روزے حج زکوۃ صدقہ صلۂ رحم عدل و انصاف سچ بولنا سب چھوڑ دے یہ سب ہم مفہومی معنی رکھتے ہیں جس طرح صدقہ دینے والے کے لئے جو ثواب مذکور ہے اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ باقی اعمال خیر ترک کر دے۔ اس طرح غم حسین ؑ میںرونے والوں کے لئے جوثواب ہیں اس بسے مراد غیر کا ترک کرنا نہیں شفاعت ایک مسلم بات ہے اس سے مراد ایک طرح سے گناہ کرنے کی چھوٹ نہیں بلکہ انسان کے اعمال میں کچھ کمی رہ جائے تو اس وقت شفاعت کریں گے اس طرح رمضان مبارک میں مختصر دعا سننے پر جتنا ثواب مذکورہ ہے ان اعمال سے دیگر اعمال کا ترک کرنا مقصود نہیں بلکہ ہر اعمال خیر کی بجاآوری پر مخصوص ثواب معین ہے تا کہ انسان ثواب کے حصول کے لئے سعی و کوشش کر ے اس طرح ہر اعمال خیر ترک کرنے پر عذاب معین ہے تا کہ اس اعمال بد کے امتثال سے اجتناب کرے پس غم حسین ؑ میںرونے کے لئے اللّٰہ رسول ؐ نے جو ثواب ذکر کیا ہے اس پر شک شبہ کرنا مسلمان کی حیثیت سزاوار نہیں۔ حسینؑ نے جو عظیم قربانی رضائے رب کے حصول کے لئے دی ہے ان کی مصیبت کو یاد کرے۔ اگر کوئی تہ دل سے آنسو بہائے تو جنت کاپروانہ کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ ہم اللّٰہ کی رحمت و عفو پر یقین رکھتے ہوں تو اللّٰہ فرماتا ہے شرک کے علاوہ باقی تمام گناہوں کو ہم بخشش کر سکتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام سے رسول اکرمؐ کا انداز محبت
روایت ہے کہ ایک بار آنحضرتؐ سے عید کے دن امام مظلوم نے عرض کیا نانا جان آج عید کا دن ہے مدینہ میں سب بچے اپنے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر عید کے لئے جا رہے ہیں ہمارے پاس کوئی اونٹ نہیں کہ اس پر سوار ہو کر جائیں۔ حضورؐ نے فرمایا اے میرے بیٹے حسینؑ غم نہ کرو میں تجھے اونٹ کے بجائے اپنے کاندھے پر سوار کرا کے عیدگاہ لے جاوں گا۔ اگررسول اکرمؐ چاہتے تو حسینؑ کے بھی اونٹ کا بند وبست کر سکتے تھے جس طرح دوسرے تمام بچے اونٹ پر سوار ہو کر عیدگاہ جارہے تھے حسینؑ کے لئے اونٹ کا بندوبست کر کے عید گاہ لے جا سکتے تھے مگر -رے بچوں کی طرح عام بچہ نہیں ہے یہ وہ ہے جو میرے دین کو پامال ہوتے اس کے احیاء کے لئے اپنا جواں بیٹے اکبر کی قربانی دے گا جواں بھائی عباس کو دین اسلام کی بقاء کے لئے نچھاور کرے گا اور چھ ماہ کے بچے اصغر کو بھی بقائے اسلام کے خاطر قربان کر دے گا اور اپنے وجود مطہر کو ایسے انداز سے درگاہ خداوندی میں پیش کرے گا۔ جب شمر اس کے سینہ پر سوار ہو گا یہ سجدۂ خداوندی کے حالات میں ہوگا۔ راوی کہتا ہے حسینؑ نے عرض کیا نانا جان باقی بچے تو اپنے اپنے اونٹوں کی نکیلیں پکڑے ہیں حضورؐ نے فوراً اپنے گیسو مبارک حسینؑ کے ہاتھوں میں دے دئیے۔ اور فرمایا بیٹالو! تمہارے اونٹ کی نکلیل یہ ہیں پس حسینؑ جدھر گسیوؤں کو حرکت دے کر چلنے کا اشارہ کرتے تھے۔ حضور اکرمؐ اسی طرف مڑ جاتے تھے۔ حسینؑ نے عرض کیا نانا جان سب اونٹ بولتے ہیں ہمارا اونٹ بولتا ہی نہیں یہ سن کر حضوراکرمؐ نے عفو عفو اپنی زبان مبارک سے کہنا شروع کیا۔
ایک واقعہ
ایک بار حضرت رسول خداؐ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت امام حسینؑ مسجد میں پہنچ گئے رسول اکرمؐ سجدے کی حالات میں تھے حضور کی پشت پر امام مظلوم سوار ہو گئے حضور اکرمؐ سجدے سے سر اٹھانے ہی والے تھے حضور کی پشت پر امام مظلوم سوار ہو گئے حضور سجدے سے سر کو اٹھانے ہی والے تھے خدا کی طرف سے وحی آئی اے میری حبیب جب تک حسینؑ آپ کے پشت مبارک پر سوار ہے سجدے میں ہی رہیں۔ واللّٰہ حسینؑ کو کسی قسم کی تکلیف دینا نہیں۔ ایک طرف اطاعت خداوندی ہے تو دوسرے طرف احترام حسینی اللّٰہ کا حکم ہے میری اطاعت اسی میں ہے کہ حسین کا احترام کرے۔ حسینؑ کا احترام حقیقت میں میری اطاعت ہے۔ حکم خدا سے حضوراکرمؐ نے سجدہ کو طول دینا شروع کیا یہاں تک کہ آپ نے ستر دفعہ سبحان الاعلی وبحمدہ ارشاد فرمایا اور جب حسین پشت مبارک سے اترے تو آپ نے سجدے سے سر اٹھا یا جب نماز سے فارغ ہوئے تو کسی صحابی نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ آج سجدہ بہت طویل ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا حسینؑ میری پشت پر سوار تھے اور حسین ؑ کے پشت سے اترنے تک سجدے میںرہنے کا حکم ہوا۔ اسی وجہ سے یہ سجدہ طویل ہو گیا۔ اور کربلا میں بھی وہی حسین تھے جن کو رسول اللّٰہ نے اپنی چھاتی پر رکھ کر پالا تھا جن کے لئے روز عید حضور اونٹ بنے۔ وہی حسین جس کو حضور اکرم ؐ ایک دن نہ دیکھ لیتے چین نہیں آتا تھا وہی حسین تھے جب مسجد میں داخل ہوئے تو خطبے کو روکر ممبر سے اتر کے انپے ساتھ منبر پر لے گئے وہی حسین جس کے حلقوم اقدس کو حضور ؐ باربار چومتے تھے کتنے ظالم تھے وہ لوگ جنہوں نے کربلا میں کتنی بے دردی سے نواسۂ رسول خداؐ کو شہید کیا۔

 

 

معجزات امام حسین علیہ السلام 

فضائل امام حسین علیہ السلام